ہزارہ

آفیسرز متحدہ ایکشن کمیٹی نے ذولفقار شاہ کو مزدروروں کے ساتھ ساتھ افسران کا بھی ہیرو قرار دے دیا

قانونی SCUعدالت جانے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ منظر وارثی۔ رباب جعفری۔ عدنان

کراچی (بیورو رپورٹ) آفیسرز متحدہ ایکشن کمیٹی نے ذولفقار شاہ کو مزدروروں کے ساتھ ساتھ افسران کا بھی ہیرو قرار دے دیا۔ نا بلد میئر اور چیئرمین سے تو ہمیں زولفقار شاہ پر فخر کرنے کی ضرورت ہے۔ بلدیاتی شیڈول آف اسٹبلشمنٹ غیر قانونی ہے اسکی آڑ میں غیر قانونی SCUGافسران بھرتی کئے گئے۔ عدالت جانے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ منظر وارثی۔ رباب جعفری۔ عدنان نے کہا کہ ہم توجہ دلا دلا کر تھک گئے۔ لیکن قابض بلدیاتی نمائندے قانون سے نابلد کونسل کے اختیارات کو استعمال کرنے سے گریزاں رہے۔ کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، آفیسرز ایکشن کمیٹی اور یونائیٹڈ آفیسرز فورم کی آواز نہیں سنی گئی۔ میئر خود کو بیرسٹر لکھتے ہیں لیکن کونسل ملازمین اور افسران کی جگہ سسٹم افسران مسلط کرتے رہے۔ چیف سیکریٹری نے کونسل ملازم کو تعینات کیا تو اس افسر کو سخت الفاظ کہے گئے۔ چیف سیکریٹری نوٹس لیں انکی کون بے توقیری کر رہا ہے۔ ذولفقار شاہ، نعیم جمال، لوکل گورنمنٹ یونینز نے سچ اور حق کی بات کی۔ ذولفقار شاہ نے پنشنرزاور تنخواہوں کے مسائل حل کرائے۔ انہیں ہی خیال آیا کہ ضمیر عباسی سابق سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ نے ماروائے قانون جو بلدیاتی شیڈول آف اسٹبلشمنٹ بنایا وہ غیر قانونی اور SLGA2013کی کھلی خلاف ورزی اور اس غیر قانونی Schedule of Establishment کے تحتسندھ پبلک سورس کمیشن کے تحت جعلی تقرریاں سب ماروائے قانون ہیں۔ SCUGکا کوٹہ اور کونسل ملازمین کا کوٹہ الٹا کرکے 80فیصد SCUGاور 20فیصد کونسل ملازمین کردیئے گئے۔ جبکہ 80فیصد لوکل ملازمین اور 20فیصد SCUGملازمین ہوتے ہیں۔ انکی میگا کرپشن نیب انکوائری بھی دبوا دی گئی جو انہی کارناموں پر تھی۔ ایم کیو ایم نے بھی یہ معاملہ ابتک Take upنہیں کیا۔ لیکن ہم زولفقار شاہ کے ہمراہ ہیں اور انکے ساتھ عدالتی کاروائی کا حصہ بھی بنیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button