قومی

سندھ حکومت کا کسان دوست اقدام، فیول سبسڈی میں بڑا سنگِ میل عبور

3 لاکھ 31 ہزار کاشتکاروں کو ہاری کارڈ کے ذریعے 3 ارب روپے کی شفاف سبسڈی، زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ

سندھ حکومت نے موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر میں 3 لاکھ 31 ہزار کاشتکاروں کو ہاری کارڈ کے ذریعے فیول سبسڈی فراہم کر دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سبسڈی پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 3 ارب روپے شفاف انداز میں جاری کیے گئے، جو کہ 19 لاکھ 40 ہزار ایکڑ زرعی رقبے پر کاشتکاری کرنے والے کسانوں کے لیے مختص کیے گئے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کاشتکاروں کے پیداواری اخراجات میں کمی لانا اور ان کی آمدن میں اضافہ یقینی بنانا ہے، تاکہ وہ بہتر طریقے سے اپنی زرعی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

شرجیل انعام میمن کے مطابق فیول سبسڈی کی تمام رقوم تصدیق شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر براہِ راست کاشتکاروں کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں، جس سے سو فیصد شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست منتقلی کے اس نظام سے نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہوئے بلکہ مستحق کسانوں تک بروقت امداد بھی پہنچ سکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ برس ہاری کارڈ کے تحت کھاد کی صورت میں دی جانے والی حکومتی امداد کے باعث گندم کی پیداوار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق گندم کی پیداوار 3.5 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 4.8 ملین میٹرک ٹن تک جا پہنچی، جو کہ زرعی شعبے میں ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گی، جن کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، معاشی ترقی کو فروغ دینا اور کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی تاکہ زرعی شعبہ مزید مستحکم ہو سکے۔

 

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button