قومی

خیبر پختونخوا میں سروسز پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں 21 فیصد اضافہ

مالی سال 2025-26 کے پہلے تین سہ ماہیوں میں کے پی آر اے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری، 34.60 ارب روپے جمع

خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کے پی آر اے) نے مالی سال 2025-26 کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران سروسز پر سیلز ٹیکس کی مد میں 21 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے مارچ کے عرصے میں 34.60 ارب روپے جمع کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ رقم 28.60 ارب روپے تھی۔ اس طرح مجموعی طور پر 6 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ نمایاں اضافہ ٹیکس نظام میں بہتری، مؤثر نفاذ، بہتر منصوبہ بندی اور صوبے میں سروس سیکٹر کے دائرہ کار میں توسیع کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ کے پی آر اے کی میڈیا ونگ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران اتھارٹی نے مجموعی طور پر 38.80 ارب روپے کی آمدن حاصل کی، جس میں 34.60 ارب روپے سروسز پر سیلز ٹیکس جبکہ 4.20 ارب روپے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (IDC) کی مد میں جمع کیے گئے۔

ادارے کی مجموعی کارکردگی مستحکم رہی، جبکہ سروسز پر سیلز ٹیکس میں نمایاں اضافہ اتھارٹی کی آمدنی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پیش رفت کو صوبے میں ٹیکس کلچر کے فروغ اور حکومتی اصلاحات کا مثبت نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل کے پی آر اے، مس ارم ناز نے ادارے کے افسران اور عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سروسز پر سیلز ٹیکس میں مسلسل اضافہ مؤثر حکمت عملی، بہتر تعمیل (کمپلائنس) اور ادارہ جاتی عزم کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق کے پی آر اے کی ٹیم نے جدید تقاضوں کے مطابق کام کرتے ہوئے ٹیکس وصولیوں میں بہتری کو یقینی بنایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی کے تحت اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور امید ظاہر کی کہ اسی رفتار سے کام جاری رہا تو سالانہ ریونیو ہدف بھی حاصل کر لیا جائے گا۔

ڈائریکٹر جنرل نے ٹیکس دہندگان کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کا اعتماد اور تعاون اس ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی اور صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم کی رہنمائی کو بھی سراہا، جن کی قیادت میں صوبے میں ریونیو بڑھانے کی کوششیں مزید مضبوط ہوئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سروس سیکٹر میں ٹیکس بیس کی توسیع اور بہتر نفاذی اقدامات مستقبل میں بھی ریونیو میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جو صوبے کی مالی خودمختاری کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button