سندھ حکومت کا ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کا فیصلہ
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹول ٹیکس اور دیگر صوبائی ٹیکسز میں ممکنہ ریلیف پر غور

سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹرز کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر کو درپیش مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے ٹرانسپورٹرز کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرانسپورٹ کے کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار چلانا نہایت مشکل ہو گیا ہے، جس کے باعث نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹول ٹیکس سمیت دیگر صوبائی ٹیکسز میں فوری ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو کچھ سہولت مل سکے۔
اس موقع پر سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ٹرانسپورٹرز کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ٹرانسپورٹ سیکٹر کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے پر پڑتے ہیں، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ اس کے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جائے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس شعبے کو درپیش مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹول ٹیکس اور دیگر صوبائی ٹیکسز میں ممکنہ ریلیف کے حوالے سے متعلقہ حکام سے مشاورت جاری ہے اور اس سلسلے میں قابلِ عمل تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان باہمی تعاون سے ہی مسائل کا دیرپا حل ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل کا مؤثر حل نکالا جا سکے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مستحکم بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹرانسپورٹرز کو ریلیف فراہم کیا جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر بلکہ مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



