قومی

کراچی میں حکومتِ سندھ کا کرایوں میں استحکام کے لیے ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کا اعلان

شرجیل انعام میمن کے مطابق پروگرام کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا، کرایوں کو کنٹرول میں رکھنا اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو سہارا دینا ہے

حکومتِ سندھ نے عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس حوالے سے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

شرجیل انعام میمن کے مطابق حالیہ دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ٹرانسپورٹ کے شعبے پر شدید دباؤ ڈالا، جس کے باعث کرایوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔ اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے “ٹارگٹڈ فیول ڈیفرینشل سبسڈی” متعارف کروائی تاکہ ٹرانسپورٹرز کو مالی سہارا دیا جا سکے اور عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

اس اسکیم کے تحت ٹرانسپورٹرز کو ماہانہ بنیادوں پر مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاہم اس کے ساتھ یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ کرایوں میں اضافہ نہیں کریں گے اور حکومتی قوانین کی مکمل پابندی کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف کرایوں کو قابو میں رکھنا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ سروس کے معیار کو بھی بہتر بنانا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کے لیے بسوں، منی بسوں اور کوچز کو ماہانہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک سبسڈی فراہم کی جائے گی، جبکہ ویگنز کو 2 لاکھ 30 ہزار روپے اور سوزوکی پک اپ گاڑیوں کو 60 ہزار روپے تک مالی معاونت دی جائے گی۔ اسی طرح انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کے لیے بسوں کو روٹس کے حساب سے ماہانہ 12 لاکھ روپے تک سبسڈی دی جائے گی، جبکہ ویگنز کے لیے یہ رقم فاصلے کے لحاظ سے 1 لاکھ 80 ہزار سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہے۔

یہ پروگرام بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت 9 ہزار سے زائد انٹرا سٹی اور 1100 انٹر سٹی گاڑیوں کو شامل کیا جائے گا۔ حکومتی اندازوں کے مطابق اس اسکیم سے ماہانہ تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ فی مسافر اوسطاً 38 روپے تک کا ریلیف ملے گا۔

اس سبسڈی پروگرام پر مجموعی طور پر تقریباً 2.2 ارب روپے ماہانہ خرچ کیے جائیں گے، جو کہ حکومت کی جانب سے عوامی فلاح کے لیے ایک بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مکمل ڈیجیٹل اور ایپ بیسڈ نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے رجسٹریشن، تصدیق اور ادائیگیاں براہ راست سندھ بینک کے ذریعے کی جائیں گی۔

یہ ڈیجیٹل نظام ایکسائز، آر ٹی اے اور پی ٹی اے کے ڈیٹا سے منسلک ہوگا، جس سے نہ صرف عملدرآمد میں شفافیت آئے گی بلکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے امکانات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ اسکیم کی مؤثر نگرانی کے لیے باقاعدہ انسپیکشن کا نظام متعارف کروایا جائے گا اور مسافروں کی فیڈبیک کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ سروس کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

شرجیل انعام میمن نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس حکومتی اقدام سے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں استحکام آئے گا بلکہ شہریوں پر مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی، جس سے ٹریفک کے مسائل اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ سے زیادہ ٹرانسپورٹرز کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ دفاتر کے اوقات کار میں 15 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، ایک اور اہم اقدام کے طور پر ایکسائز میں رجسٹرڈ ہر موٹر سائیکل مالک کو 2 ہزار روپے فیول سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی، جو کہ عام شہریوں کے لیے ایک اضافی ریلیف ثابت ہوگا۔

یہ پروگرام حکومت سندھ کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تسلسل ہے، جس کا مقصد شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button