قومی

سردار لطیف کھوسہ کا وکلا کنونشن سے خطاب

سردار لطیف کھوسہ کا وکلا کنونشن سے خطاب

شہر قائد کے باسیو آج دھرتی ماں مدد کے لیے پکار رہی ہے۔

آج کالے کوٹ کی آزمائش کا وقت ہے۔

تصور پاکستان کالے کوٹ والے علامہ اقبال نے دیا

بیرسٹر قائد اعظم نے اس خواب کو حقیقی جامہ پہنایا

ہم غداری کے فتوے آج تک دیتے آئے ہیں۔ فاطمہ جناح کو سیکورٹی رسک قرار دیا گیا۔

ہم نے لیاقت علی خان کے قاتل کو بھی مار دیا۔

مجیب الرحمن نے 160 سیٹیں جیتیں ہم نے اس کو اقتدار نہیں دیا پابند سلاسل کر دیا۔

جو قومیں اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھتی وہ تباہ ہوجاتی ہیں

ملک توڑنے والو کو سزا نہیں دی گئی۔ سردار لطیف کھوسہ

کوئی فوج اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک عوام کی محبت اس کے ساتھ شامل نہ ہو

۲۵ کروڑ عوام کا پیکا کے ذریعے گلہ گھونٹ دیا گیا

پورے ملک کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔

نواز شریف اور شہباز شریف اپنی اپنی سٹیں ہارے ہیں۔

کون حکومت چلا رہا ہے ؟؟ کیا شہباز شریف حکومت چلا رہا ہے ؟؟

ملک میں ایک ہی مجاہد ہے جو جیل میں بیٹھا ہے۔ اس کا مرنا جینا پاکستان کے ساتھ ہے۔

یہ پاکستان اشرفیہ کا پاکستان نہیں بلکہ سب کا پاکستان ہے۔

ہمیں اپنے پاکستان کے لیے کھڑا ہونا پڑا گا۔ ہمیں قربانی دینا پڑے گی

کراچی سے تحریکیں اٹھتی ہیں اور کامیاب ہوتی ہیں۔ سردار لطیف کھوسہ

سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ کا کنونشن سے خطاب

ہمیں ملک میں جمہوریت چائیے۔ پاکستان تحریک انصاف انسانیت کے لیے بات کر رہی ہے۔

ظلم جہاں بھی ہو ظلم ہوتا ہے۔ بلوچستان میں ہو یا سندھ میں ہو

ہم کے پی کے اور پنجاب کے حقوق کی بات کر رہے ہیں

ہم گلگت بلستان کو پاکستان میں شامل کریں گے۔

کشمیر کی جنگ لڑیں گے۔ میں پوری قوم کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہمارے قافلے میں شامل ہو جائیں

عمران خان سے جب بھی ملاقات ہوئی مجھے ان کا جزبہ غیر متزلزل نظر آیا

وہ ہمیشہ کمزور محکوم اورمظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کا درس دیتے ہیں

ہمیں نکلیں گے اور اس ملک کو بچانے کے لیے جنگ لڑیں گے۔

ملک میں جمہوریت پر یقین رکھنے والے اکھٹے ہو رہے ہیں۔

غریب سے اس کا حق چھین لیا گیا ہے۔

انسان دوست تحریک وجود میں آچکی ہیں

سلمان اکرم راجہ

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا سٹی کورٹس کنونشن سے خطاب

ہم آپ کے پاس کراچی اس لیے آئیں ہیں کہ کراچی سے جو تحریک چلتی ہے تو پورے ملک میں تحریک چلتی ہے

ملک میں عملا مارشل لا ہے۔ آئین اور قانون ختم ہو چکا ہے۔

اس وقت ملک میں جنگل کا قانون ہے۔ لوگوں کے کاروبار ختم کیا جارہا ہے۔

کراچی پاکستان کے لیے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی جاگتا ہے تو پورا ملک جگتا ہے

ہمیں اپنے حقوق کے لیے نکلنا ہو گا

بھٹو نے آئین کی بنیاد رکھی اور اس کا نواسہ اس کو دفنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کر ہے

پیپلز پارٹی کا نظریہ ختم ہو چکا ہے

پورے ملک کے ججز مظلوم ہیں انصاف کے متلاشی ہیں غریب عوام کہاں جائیں ؟

بلوچستان کے آٹھ اضلاع میں عملا حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے

ایک ہی راستہ ہے کہ ملک میں آئین کو بحال کیا جائے

عمران خان ملک کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے۔

ہم نے اسلام آباد میں دو روزہ سیمنار بلا یا اس میں ہم قومی ایجنڈہ دیں گے

 

 

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button