کالمز

جرمنی کے انتخابات اور تارکین وطن کے خدشات

کالم : عشرت معین سیما

جرمنی کے حالیہ انتخابات جرمنی کی سیاسی تاریخ کے سب سے اہم انتخاب ہیں۔ اس وقت جو بنیادی طور پر سیاسی پارٹیاں انتخاب کے لیے متحرک ہیں اُن میں سی ڈی یو اور سی ایس یو اتحاد کی قیادت ہے، جو جرمنی میں 16 سال حکومت میں رہنے کے بعد 2021 میں بنڈس ٹاگ میں سب سے مضبوط اپوزیشن قوت بن گئی۔ اس انتخاب میں دوسرے نمبر پر دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت اے ایف ڈی ہے جسے 20 فیصد تک ووٹ ملنے کے امکانات دکھائی دے ہیں۔ یہ تعداد 2021 کے مقابلے میں دو گنا ہو گی اور تیسرے نمبر پر سوشل ڈیموکریٹک، بائیں بازو کی جماعت، گرین پارٹی اور ایف ڈی پی ہے جن کے اتحاد سے موجودہ حکومت قائم ہے۔

اس انتخاب کی بڑی وجہ جرمنی میں کمزورمعیشت، افراط زر ، جنگ اور مائگریشن کے مسائل ہیں۔ جن کو سامنے رکھ کر سیاسی جماعتیں اپنا موقف بیان کر رہی ہیں۔ اب تک جرمن چانسلر اولاف شولز جو سوشل ڈیموکرٹک سے تعلق رکھتے ہیں اپنے دور حکومت کا دفاع ہی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جب کہ مضبوط اپوزیشن کے رہنما اور کرسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئر مین اور چانسلر کے عہدیدار فریڈرش میرس کے چانسلر بننے کے زیادہ امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔
غیر ملکیوں یا پاکستانیوں کے لیے اس سال کے انتخاب اس لیے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کہ اس بار مہاجرت کو بھی بنیادی نکتہ بنا کر انتخاب کی مہم چلائی گئی ہے خاص طور پر پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے حوالے سے بھی جرمنی کے قوانین میں تبدیلی کی بات کی جارہی ہے جو انتہائی حد تک افغان، شامی اور دیگر مسلم کمیونٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس وقت جرمنی میں خاص طور پر ہجرت کرکے جرمن قومیت لینے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ اُن کا اور ان کی اگلی نسل کا مستقبل یہاں کیسا ہوگا ؟ کیا جرمنی کو پھر ایک نسلی تعصب کی جنگ میں جھونک کر دوسری جنگ عظیم کی یاد تازہ کی جائے گی یا تارکین وطن کے جرمنی میں بسے بسائے گھرانوں کو واپس ان کے آبائی وطن بھیجنے پر مجبور کیا جائے گا۔
گرچہ اس وقت فریڈرش میرس نے اس بات کا عوام کے سامنے اظہار کیا ہے کہ وہ انتہا پسند جماعت اے ایف ڈی کے ساتھ کولیشن نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود مہاجرت کے حوالے سے وہ ان کے پیش کردہ کچھ نکات کی بھی حمایت کر چکے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button