ہزارہ

آزاد کشمیر میں منگلا ڈیم کے متاثرین کو اگر سستی بجلی اور آٹا مل سکتا ہے تو تربیلہ ڈیم کے متاثرین کو بھی یہ سہولیات ملنی چاہیے

ہری پور(نمائندہ خصوصی)آزاد کشمیر میں منگلا ڈیم کے متاثرین کو اگر سستی بجلی اور آٹا مل سکتا ہے تو تربیلہ ڈیم کے متاثرین کو بھی یہ سہولیات ملنی چاہیے،منگلا ڈیم کے مقابلہ میں متاثرین تربیلہ نے زیادہ قربانیاں دیں جبکہ منگلا ڈیم کے متاثر ین کو پہلے ہی تربیلہ کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ مراعات حاصل ہیں،ہری پور سمیت ہزارہ بھر میں اس وقت مختلف قسم کے بجلی کے منصوبے کام کر رہے ہیں جن کی بدولت سرکاری خزانہ کو سالانہ اربوں روپے کی آمدن ہو رہی ہے جبکہ ہزارہ کی زرعی اجناس اور حطار انڈسٹریل اسٹیٹ سے بھی قومی و صوبائی خزانہ کو سالانہ کئی ہزار ارب بلواسطہ یا بلا واسطہ مل رہے ہیں ایسے میں ہری پور اور ہزارہ کے باسیوں کو مراعات ملنا انتہائی ضرور ی ہے ان خیالات کا اظہار ہزارہ قومی محاذ کے سابق مرکزی سیکر ٹری اطلاعات عرفان مبارک نے اپنے اخباری بیان میں کیا انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے ہزارہ سے منتخب ہو نیوالی قیادتوں نے ہمیشہ اس خطہ کے اجتماعی مفادات کے بجائے اپنے حلقہ کی سیاست کو ترجیحی دی او ر ہر دفعہ محض چند وزارتیں یا فنڈز لیکر ہزارہ کے اجتماعی کاز کو پس پشت ڈالا یہی وجہ ہے کہ آج تک ہزارہ میں ایوب میڈیکل کالج کے علاوہ کوئی میگا پراجیکٹس نہیں آ سکا،ہزارہ میں قائم ہو نیوالی یونیورسٹیز بھی زبوں حالی کا شکار ہیں دوسری جانب ہزارہ میں بیروزگاری بام عروج پر پہنچی ہے جس کے باعث ہر سال سینکڑوں ہزاروں نوجوان بیرون ملک روزگار کیلئے جا رہے ہیں جبکہ با قی ماندہ نوجوان ذہنی بیماریوں کا شکار ہو کر یا نشہ و جرائم کا شکار ہو کر معاشرے پر بوجھ بن رہے ہیں،اسی لئے ہزارہ قومی محاذ 90کی دہائی سے مرحوم آصف ملک ایڈوکیٹ کی قیادت میں صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے او ربار ہا یہ واضح کر چکی ہے کہ ہزارہ میں بسنے والی تمام اقوام آپس میں بھا ئی بھائی ہیں ہم صرف انتظامی طور پر اپنا صوبہ چاہتے ہیں تا کہ ہزارہ کے وسائل و آمدن ہزارہ کے عوام پر استعمال ہو سکے،انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے عوام نے سڑکوں پر نکل احتجاج کر کے اپنا حق حاصل کر لیا اور حکومت پاکستان نے فوری طور پر 24ارب کی خطیر رقم بیک جنبش قلم آزاد کشمیر کے حوالے کر دی تاہم اس وطن کے دیگر باسیوں کو بھی ان کے جائز حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہو نا انتہائی ضروری ہے، انہوں نے مزیدکہاکہ ہزارہ کی منتخب قیادت کے علاوہ دیگر سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ اس ما ں دھرتی کیساتھ وفا داری کا ثبوت دیتے ہوئے ہزارہ کے عوام کو انکے جائز حقوق کی فراہمی کیلئے اپنا کر دار ادا کریں

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button