شہر میں پانی کی قلت پر کراچی کے عوام بپھر گئے۔
منتخب نمائندے کیا کر رہے ہیں؟کراچی کو لوٹ سیل نہ سمجھا جائے۔ مختلف جماعتوں کا ردعمل، MPPکے اراکین بھی سراپا احتجاج
(کراچی / ڈسٹرکٹ رپورٹر) کراچی کے تمام علاقے کربلا کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ واٹر کارپوریشن کو بددعائیں مل رہی ہیں۔ غریب کین خرید کر جھولی پھیلا پھیلا کر حکمرانوں کو دہائی دے رہے ہیں، منتخب نمائندوں کی بے حسی پر ٹینکرز مافیا کی چاندی پر عوام سیخ پا ہیں۔ کراچی کا ہر علاقہ ٹینکرز مافیا۔ ٹنکی مافیا کے نرغے میں ہیں غریب عوام کھارے پانی کی ٹنکیاں ڈلوا رہے ہیں کہ کپڑے دھل سکیں۔ ہماری اسٹرنگ ٹیم نے ٹینکرز کے ریٹ فکس کرنے واٹر کارپوریشن سے ٹھیکیداروں سے وصولی مہم بھی دیکھی۔ایک ٹھیکیدار نے کہا کہ اب چار ہزار سے کم کا ٹینکر نہیں صاحب لوگ کے بھی ریٹ بڑھ گئے ہیں۔ تمام اعلی افسروں کے فری ٹینکر ز کی رقم کہاں سے وصول کریں۔ میئر کی بھی پرچیاں آتی ہیں ایم ڈی کو فون آتے ہیں۔ پری پلان لائنیں بھرسٹ کی جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما محمد شاہد نے کہا کہ حکومتیں ختم کردیں اور فوجیوں کو ہر ادارے میں لگا دیں۔ پانی گھر گھر آئے گا۔MPPنے کہاکہ پاکستان کو لوٹنے والے ا نجام کو پہنچیں گے۔ میری پہچان پاکستان کرپٹ افسران کے خلاف سیسہ پلائی پہوئی دیوار ہے۔ علاقہ مکیں بھی سخت مضطرب تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



