معنوی اعتبار سے ہجرت منتقلی وطن کو کہتے ہیں قیام پاکستان کے وقت برصغیر کے اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کی ہجرت ایک غیر معمولی نوعیت کا واقعہ تھا۔ ہجرت کا یہ عمل صرف چند افراد کا عمل نہیں بلکہ ایک بہت بڑی تعداد کا عمل تھا اس ہجرت کا کسی مخصوص علاقے سے نہیں تھا بلکہ برصغیر کی مشترکہ روحانی، فنون لطیفہ، طرز معاشرت، انداز فکر اور مختلف قومیتوں کے گہرے ذہنی اتحاد اور روزمرہ کے سماجی میل جولائی کا نتیجہ تھا۔ 1947 کے بعد نمودار ھونے والے قافلے اپنے ساتھ صرف جسم ہی نہیں لاے بلکہ اپنے ساتھ تہذیبی انقلاب اور ذہنی بیداری بھی لاے تھے۔ مہاجر کسی طرح بھی پاکستان کی چار تسلیم شدہ قومیتوں پنجابی، پٹھان، سندھی اور بلوچی سے نظریہ قومیت کی بنیاد پر مطابقت نہیں رکھتے اس لئے مہاجروں کی یقینا ایک الگ اور منفرد حیثیت ھے، یہ الگ اور منفرد حیثیت ہی مہاجر قومیت کا ایک مضبوط استدلال اور جواز ہے۔ ایک جیسے حالات و مفادات رکھنے والوں کی قومیت، ایک جیسا آغاز و انجام رکھنے والوں کی قومیت اور ایک جیسی روایات و ثقافت رکھنے والوں کی قومیت کے وجود کے بارے میں کیا بھی کوئی شبہ رہے جاتا ھے۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مہاجر اس ملک کا انتہائی فعال عنصر ہیں نہ صرف پاکستان کو وجود میں لانے کے لیے ان کی قربانیاں سب سے زیادہ تھی ان لازوال قربانیوں کے ساتھ ساتھ مملکت کا ابتدائی ڈھانچہ سنبھالنے اور مضبوط بنانے میں دوسروں سے زیادہ خدمات انجام دی ۔ایم کیو ایم پاکستان ملک بھر کے تمام محروم و مظلوم عوام کے حقوق کے حصول اور ان کو جبر و استحصال سے نجات دلانے اور ملک سے فرسودہ نظام سیاست کے خاتمے کی جہد و جہد کر رہی ہے۔ اس استحصالی نظام کے حامی جاگیرداروں، سرمایہ داروں، مراعات یافتہ طبقے اور ان کے پیرول پر پھلنے والی افسر شاہی کے نمائندوں نے مظلوم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے اور ملک میں صیح معنوں میں جمہوریت کے قیام کے لئے عملی کردار ادا کرنے والی جماعت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ مہم چلائی اور عوام کو گمراہ کیا اور یک طرفہ کردار کشی کی اس بے بنیاد اور یک طرفہ پروپیگنڈہ کا مقصد مڈل کلاس تعلیم یافتہ اور باشعور جماعت سے عوام کو دور اور بدظن کرنا تھا جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے خاص کر پنجاب میں۔ ایم کیو ایم ابتدائی ایام میں مہاجروں کے حقوق کے حصول کیلئے بنائی گئی تھی مگر چند سال بعد ہی مہاجر قومی موومنٹ سے ھوتی ہوئی محتدہ قومی موومنٹ پاکستان کی شکل میں بگولے کے مانند اٹھی اور آندھی کی طرح پاکستان کے آفق پر چھا گئی اور اس کی کونپلیں پاکستان کے تمام علاقوں میں پھوٹنے لگیں ھے۔ایم کیو ایم پاکستان کی باشعور اور دردئے دل رکھنے والی قیادت کی سیاست کا محور پاکستان کی وہ عوام ھے جن کے حصے میں صرف اور صرف مہنگائی، بیماری، فرقہ واریت، لسانی تعصب، غربت، بھوک و افلاس اور بے روزگاری آئی ہے۔وطن عزیز کی تمام سہولیات پر 2 فصید مراعات یافتہ طبقے نے قبضہ کیا ھوا ھے ۔ ایم کیو ایم پاکستان کی وطن پرست قیادت اس مراعات یافتہ طبقے کے خلاف میدان عمل میں مصروف ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کا فلسفہ سیاست اپنے وسائل پر اپنا اختیار پر مبنی ہے۔
With Product You Purchase
Subscribe to our mailing list to get the new updates!
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur.
متعلقہ آرٹیکل
**فلسطین ایک خواب جو حقیقت کے قریب تر**
ستمبر 22, 2025
مزید دیکھیں
Close


