آج کے کالمزکالمز

خطے میں امن اور کشیدگی: ایک نازک توازن

از: انور ظہیر رہبر، برلن جرمنی


دنیا آج ایک انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف عالمی و علاقائی تنازعات نے انسانی زندگیوں اور استحکام کو خطرے میں ڈال رکھا ہے، تو دوسری طرف امن کی کوششیں، جیسے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ معاہدے، امید کی ایک کرن فراہم کر رہی ہیں۔ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ طویل عرصے کے تصادم کے بعد بھی مذاکرات کے ذریعے اختلافات کم کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ عملی اقدامات اور باہمی اعتماد قائم ہو۔ اگرچہ یہ معاہدہ ابتدائی طور پر اعتماد سازی میں مددگار ہو سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار عملی اقدامات، مقامی تعاون اور عالمی نگرانی پر ہے۔

دوسری طرف دنیا کے دوسرے خطے میں کشیدگی بھی ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ عرصے سے کشیدہ ہیں، جہاں سرحدی مسائل، دہشت گردی کے خطرات اور سیاسی عدم اعتماد نے تعلقات کو بوجھل کر رکھا ہے۔ اس دوران بھارت اور افغانستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات، چاہے وہ اقتصادی ہوں یا عسکری، پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ یہ تعلقات خطے میں طاقت کے توازن پر اثر ڈال رہے ہیں اور نئی کشیدگیوں کے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔
ان تمام صورت حال کے باوجود، امن قائم کرنا ناممکن نہیں۔ ضروری ہے کہ تمام فریق اپنی خارجہ پالیسی میں سفارت کاری اور گفت و شنید کو اولین ترجیح دیں، اور جارحیت یا یکطرفہ کارروائیوں سے گریز کریں۔ عالمی برادری کا تعاون بھی اہم ہے، تاکہ امن کے اقدامات صرف کاغذ پر نہ رہ جائیں بلکہ عملی طور پر نتیجہ خیز ثابت ہوں۔
آخرکار، یہ حقیقت سامنے ہے کہ گفت و شنید، اعتماد سازی اور باہمی تعاون ہی وہ راستے ہیں جو انسانی جانوں کی حفاظت اور خطے میں دیرپا استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر عالمی اور علاقائی رہنما اس سبق کو سمجھیں اور عمل کریں، تو دشمنی اور کشیدگی کی بجائے تعاون اور ہم آہنگی کی حکمرانی ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ لمحہ چیلنجز کے ساتھ ساتھ ایک سنہری موقع بھی ہے: اگر ہم عقل و حکمت کے ساتھ فیصلے کریں، تو نہ صرف خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے بلکہ ایک نئی دور کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، جہاں ہر قوم ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
آئیے دنیا کے بدلتے ہوئے رُخ سے اُمید کشید کرتے ہیں اور آنے والے مستقبل کے معماروں کے لیے یہی راہ متعین کریں کہ ہر مسئلے کا حل باہمی گفت و شنید اور تعاون سے ممکن ہے کسی بھی فریق کے ساتھ ظلم یا زیادتی کیے بغیر۔۔۔۔۔۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button