عالمی

اسرائیلی و امریکی حملوں کا چوتھا روز: تہران، اصفہان اور شیراز نشانے پر، ایران کے جوابی وار تیز

خلیج فارس میں امریکی ریڈار پر ایرانی میزائل حملہ، امارات کا فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا اعلان، خطے میں کشیدگی عروج پر

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی چوتھے روز بھی کم نہ ہو سکی، جہاں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ایرانی دارالحکومت تہران کے علاوہ اصفہان اور شیراز کو بھی مسلسل فضائی اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق حملوں میں عسکری تنصیبات اور حساس مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا، تاہم شہری آبادی بھی خوف و ہراس کی فضا میں مبتلا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون مار گرائے، جبکہ بعض حملے مخصوص مقامات پر نقصان کا باعث بنے۔ دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ خطے میں موجود دشمن کے مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آئندہ بھی سخت ردِعمل جاری رہے گا۔

اہم پیش رفت میں خلیج فارس میں امریکا کے سب سے بڑے ریڈار سسٹم پر ایرانی میزائل حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ریڈار سسٹم تقریباً 5000 کلومیٹر تک اہداف کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اس کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔ امریکی حکام نے حملے کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریڈار کو نقصان پہنچا ہے تو یہ امریکا کی خطے میں نگرانی کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ادھر خلیجی ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دے گی۔ اماراتی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ملک کسی بھی علاقائی تصادم کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور اپنی خودمختاری و سلامتی کا ہر صورت دفاع کرے گا۔

اماراتی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ اماراتی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ امارات کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

عالمی سطح پر بھی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے فریقین سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور عالمی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں، میزائل حملوں اور دفاعی بیانات کے باعث یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ تنازع مزید وسیع شکل اختیار کر سکتا ہے، جبکہ سفارتی کوششیں تاحال کسی واضح پیش رفت کی صورت اختیار نہیں کر سکیں۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button