خیبر پختونخوا میں خواتین کی خودمختاری کا نیا دور شروع — ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی (2026–2030) کا شاندار اجرا
پشاور میں پروقار تقریب، صنفی مساوات، انصاف، تعلیم، صحت اور معاشی مواقع تک رسائی بہتر بنانے کا عزم

حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے میں خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی (2026–2030) کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ اس اہم پالیسی کا اجرا خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں اور UN Women کے اشتراک سے پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران کیا گیا۔ یہ پالیسی صوبے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ، مساوی مواقع کی فراہمی اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم تھے۔ اس موقع پر چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں ڈاکٹر سمیرا شمس، کمیشن کی سیکرٹری شازیہ عطا، صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام، اراکینِ صوبائی اسمبلی، سول سوسائٹی، تعلیمی ماہرین، نجی شعبے کے نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے ادارے اور دیگر ترقیاتی شراکت داران نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر آفتاب عالم نے کہا کہ ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی (2026–2030) محض ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ حکومتِ خیبر پختونخوا کا خواتین کے حقوق، وقار اور مساوی مواقع کے تحفظ کا واضح اور عملی عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری قانون سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنایا جا سکے۔
چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی مؤثر نگرانی، شفافیت اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے ممکن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کے اس وژن کے مطابق کہ خواتین کو ترقی کے عمل میں مساوی شراکت دار بنایا جائے، یہ پالیسی اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کمیشن تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر جامع اور جوابدہ عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
سیکرٹری کمیشن شازیہ عطا نے پالیسی پر تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں صنفی حساس حکمرانی کو فروغ دینے، خواتین کی انصاف، تعلیم، صحت اور معاشی مواقع تک رسائی بہتر بنانے، فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت کو یقینی بنانے اور ڈیجیٹل جدت، موسمیاتی مزاحمت اور سماجی تحفظ کے نظام میں صنفی پہلوؤں کو شامل کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پالیسی میں ضم شدہ اضلاع کی مخصوص ضروریات اور صوبائی سطح پر موجود صنفی تفاوت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
اس موقع پر UN Women کی نمائندہ نے کہا کہ یہ پالیسی پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 5 کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے اور یو این ویمن تکنیکی معاونت اور عالمی بہترین تجربات کے تبادلے کے ذریعے حکومتِ خیبر پختونخوا کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
تقریب کے اختتام پر ایک پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا جس میں ماہرین نے پالیسی کو عملی نتائج میں ڈھالنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ حکومتی نمائندگان نے محکماتی ورک پلانز، بجٹ انضمام اور مؤثر مانیٹرنگ میکنزم کے ذریعے پالیسی پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔
آخر میں حکومتِ خیبر پختونخوا اور UN Women نے اس امید کا اظہار کیا کہ ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی (2026–2030) صوبے بھر میں خواتین اور بچیوں کی زندگیوں میں مثبت، دیرپا اور ٹھوس تبدیلی کا باعث بنے گی۔
رپورٹ: عبدالمومن



