ہزارہ

کراچی کی تباہی میں پیپلز پارٹی پیش پیش ہے وائس چیئرپرسن روبینہ یاسمین

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مہاجر اتحاد نیشنل موومنٹ (پاکستان) کی وائس چیئرپرسن روبینہ یاسمین نے کہا ہے کہ کراچی کی تباہی میں پیپلز پارٹی پیش پیش ہے متعصبانہ اقدامات اور چور دروازے سے بلدیاتی اداروں میں آنے کے بعد 17سا،لہ اقتدار کے بدترین کرپشن کے بعد اب دو سالہ بلدیاتی اداروں کے کراچی اور حیدرآباد میں کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے اورنگی ٹاؤن سے مہاجر دکانداروں اور لیز منسوخی کی دھمکیوں میں متاثرہ وفود سے ملاقات کے موقع پر یہ بات کہی۔ عقیل انبالوی، یونس میمن، آرگنائزر اورنگی سہیل بہاری، بہاری قومی موومنٹ کے اقبال اور ساجد انقلابی بھی موجود تھے۔ کراچی میں کے ایم سی اسوقت کرپٹ ترین ادارہ ہے جہاں مفرور قاتل اور سنگین مقدمات میں مطلوب افسران سے ایک ایک کروڑ روپے لے کر کراچی کی زمینیں نمٹوائی جا رہی ہیں۔ سید عباس رضا زیدی، معظم قریشی، اظہر نقوی، محسن شیخ، چاچڑ سسٹم کے زریعے کروڑوں روپے میئر اور انکے دست راست اور چھ سال سے غیر قانونی کرپشن کا بادشاہ میونسپل کمشنر وفاق کو رپورٹ کرنے کے بجائے وصولیوں میں لگا ہوا ہے۔ مہاجر دکانداروں، مہاجر گھروں کو مسمار کرنے اور نیب کے زریعے کرپٹ پی ڈی فیصل رضوی ہراساں کر رہا ہے فرقہ وارانہ حرکات کی جارہی ہیں۔ مدرسے جو جو دوسرے مسلک کے ہیں انہیں توڑ کر دکانیں بنائی جا رہی ہیں۔ پہلے مفتی منیب الرحمان کے ساتھ کیا گیا اب مدارس خطرناک اپیل کرکے فرقہ وارانہ فساد کی راہ ہموار کر رہے ہیں جسکے ذمہ دار میئر کراچی، افضل زیدی، فیصل رضوی ہیں۔ اورنگی ٹاؤن میں ہزاروں مہاجروں کو بے گھر کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ نیب کی ایک افسر رملہ نقوی نے ایک سابق جج اور میونسپل کمشنر نے سابق جج اور ایک عالم کے فون پر اس کرپٹ لیب اٹینڈنٹ اجعلی افسر کو اور اختیارات دے دیئے ہیں۔ پی پی پی کے ٹاؤن چیئرمین جو قتل میں اپنے ہی ساتھی کے قتل میں ملوث ہے اسکی آشیر باد پر اورنگی میں نالوں، مساجد، ایکٹرا لینڈ پر قبضے ہو رہے ہیں۔ کے ایم سی میں سسٹم راج ہے۔ نیب پارٹنر بن گئی ہے۔ 1974کے قانونی نقشے اور پاکستان بننے سے پہلے اور اسکے بعد آباد اورنگی کے مکینوں کو ستر 70سال بعد قانونی ریگولائریزیشن ملنے کے بعد دس سال کی سزا کی دھمکیاں دے کر فیصل رضوی اور اسکی ٹیم نیب سے سزا دینے اور کچھ افراد کے نام شامل کرکے اپنا ذاتی انتقام لینے کے لئے بیانات دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ روبینہ یاسمین نے کہا کہ ہم چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب سے بات کریں گے۔ فیصل رضوی کی پرسنل فائل سروس ریکارڈ اور اثاثوں کا ریکارڈ، میونسپل کمشنر کا ریکارڈ، کلک کرپشن کیس دبانے اور چھ سال سے سندھ میں قابض رہنے کی تحقیقات کریں۔ شہنشاہ نقوی اور جسٹس باقر کے ناموں کے استعمال کی تحقیقات اور دیگر مسالک کی مساجداور مدرسوں کی جگہ دکانیں اور قبضوں اور بنارس میں تعمیرات، نالوں پر فیصل رضوی کے دور میں 50دکانوں کی تعمیر، جائز تعمیرات پروصولیوں کی تحقیقات کرائی جائیں۔ جامعہ مسجد غوثیہ ما معاملہ فوری حل کرکے مسالک میں تصادم کی فضاء کو فیصل رضوی کو فوری برطرف کرکے پورا کیا جائے۔ مہاجرافسروں اور مہاجر دکانداروں کے خلاف نیب کی متعصبانہ مہم کے خلاف سخت ایکشن اور عدالت میں چینج کرنے کے لئے قانونی ٹیم کو بھی ہدایت کردی ہے۔ فیصل رضوی کی لیز پر لیز اور عدالتی حکم کے باوجود کسی اور کو لیز کرنے جبری قبضوں کی تفصیل بھی نیب کو اور اداروں اور فیلڈ ماشل و کور کمانڈر کو لکھیں گے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button