وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں کاروباری اوقات پر پابندیاں ختم کر دیں
دکانوں، مارکیٹس اور کاروباری مراکز کو معمول کے مطابق اوقاتِ کار جاری رکھنے کی اجازت، تاجروں نے فیصلہ خوش آئند قرار دے دیا

شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کاروباری اوقات پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ سینٹرز اور دیگر کاروباری مراکز اب معمول کے مطابق اپنے اوقاتِ کار جاری رکھ سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ تاجروں، کاروباری تنظیموں اور عوامی حلقوں کی جانب سے مسلسل مطالبات کے بعد کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا موجودہ معاشی حالات میں انتہائی ضروری ہے۔
پابندیاں اس سے قبل توانائی کے تحفظ اور کفایت شعاری پالیسی کے تحت نافذ کی گئی تھیں، جن کے تحت مارکیٹس اور تجارتی مراکز کو مخصوص وقت پر بند کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم تاجروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا جا رہا تھا کہ ان پابندیوں سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے کاروباری سرگرمیوں، روزگار اور مقامی معیشت کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
تاجر تنظیموں نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری اوقات میں نرمی سے نہ صرف تاجروں کو ریلیف ملے گا بلکہ صارفین کو بھی سہولت حاصل ہوگی۔ ان کے مطابق بڑے شہروں میں رات کے اوقات میں خریداری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے، اس لیے محدود اوقات کاروبار کے لیے مشکلات پیدا کر رہے تھے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق کاروباری سرگرمیوں میں تسلسل معیشت کے استحکام کے لیے اہم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے تو ایسے فیصلے مثبت معاشی نتائج دے سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ بھی توانائی پالیسی اور کاروباری ضروریات کے درمیان متوازن حکمت عملی اپنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ عوام اور کاروباری طبقے دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی و کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں پابندیوں کے خاتمے کے بعد دیگر شہروں میں بھی ایسے فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق کاروباری مراکز کو معمول کے مطابق اوقات کی اجازت دینے کے باوجود توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال اور غیر ضروری بجلی کے ضیاع سے بچنے کی ہدایات برقرار رہیں گی۔


