سید آباد امامیہ کالونی، تھانہ اے سیکشن لطیف آباد کے علاقے میں 8 اور 9 مئی کی درمیانی شب مبینہ پولیس مقابلہ ظاہر کیا گیا
کراچی: سید آباد امامیہ کالونی، تھانہ اے سیکشن لطیف آباد کے علاقے میں 8 اور 9 مئی کی درمیانی شب مبینہ پولیس مقابلہ ظاہر کیا گیا۔ متاثرہ خاندان کے مطابق پولیس نے چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں میں داخل ہو کر خواتین اور اہلِ خانہ کو ہراساں کیا جبکہ گھروں کے کمروں میں گھس کر توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
متاثرہ شہری مصطفیٰ عبدالرحمن کیبلانی کے مطابق اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قسم کی ایف آئی آر درج ہوئی ہے، تاہم ان کا نام مبینہ طور پر اسپائر میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت وہ اپنے گھر میں موجود تھے اور اس حوالے سے سی ڈی آر ریکارڈ بھی چیک کیا جا سکتا ہے۔
مصطفیٰ عبدالرحمن کیبلانی نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی جانب سے بلاجواز ہراساں کیا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ ان کے نام پر جھوٹا مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف انکوائری کرائی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
متاثرہ شخص کے مطابق متعلقہ ایس ایچ او نیک محمد گھوسو کے خلاف بھی شہریوں کی جانب سے مختلف شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جن کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔



