ملک ریاض کیس میں نیب کے شکنجہ میں آنے والے افسران میں کے ایم سی افسران بھی ریفرنس میں شامل
، سابق ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو، سابق ڈی سی او جاوید حنیف، سابق ڈی جی محمد سہیل خان، ضیاء الدین صابر، اختر علی میو، صدیق ماجد شامل ہیں
کراچی ملک ریاض کے خلاف نیب ریفرنس نے جہاں کھلبلی مچائی ہے۔ وہاں افسران اور اعلی سطح کے افسران کے ساتھ ساتھ کے ایم سی کے افسران اور کے ڈی اے کے افسر بھی اس ریفرنس کا حصہ ہیں۔ ملک ریاض کیس میں نیب کے شکنجہ میں آنے والے افسران میں کے ایم سی افسران بھی ریفرنس میں شامل، سابق ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو، سابق ڈی سی او جاوید حنیف، سابق ڈی جی محمد سہیل خان، ضیاء الدین صابر، اختر علی میو، صدیق ماجد شامل ہیں۔ نیب کے کیسوں میں صباح الاسلام، سیف عباس، وسیم شیخ ضمانتوں پر ہیں۔ جبکہ نیب پلی بارگین افسران شارق الیاس بھی موجود ہیں۔ سسٹم افسران کی آشیر باد سے اہم پوسٹوں پر تعینات ہیں۔ جبکہ ایم کیو ایم رہنما جاوید حنیف ایم پی اے، ایم کیو ایم رہنما عامر خان کے دست راست سہیل خان ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ ریفرنس دائر ہونے کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ثاقب سومرو بھی ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملک ریاض و دیگر بھی ملک میں موجود نہیں۔ حکومتی و سرکاری افسران کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کو نوازنے کے لئے قومی خزانے کو 7کھرب8ارب8کروڑ80لاکھ83ہزار45روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس پر نیب نے ریفرنس فائل کردیا ہے۔ نیب نے احتساب عدالت میں ملک ریاض، CEOاحمد علی ریاض، وائس چیئرمین بحریہ ذین ملک، DCEOشاہ محمود قریشی، ملک ریاض کے بھانجوں وقاص رفعت، وسیم رفعت، سابق وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ، سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن ثاقب سومرو، جاوید حنیف، DG SBCAمنظور قادر کا کا، آغا مقصود عباس، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو احمد بخش ناریجو، پرنسپل سیکریٹری محمد اویس، DG MDAمحمد سہیل، ڈائریکٹرز ضیاء الدین صابر، صدیق ماجد، اختر علی میو، نشاط علی رضوی، شاہد حسن، مستفیض احمد، ناصر قائم خانی، پرویز حنیف، DCملیر قاضی جان محمد، مختیار علی ابڑو، عبدالرحمان، اقبال احمد میرانی، سہیل میمن، مراد میمن، طفیل احمد خاصخیلی، شاہ مرید، میر محمد گھارو، شکیل احمد رانا بطور ملزمان نامزد کئے ہیں۔ نیب کی جانب سے ریفرنس میں شواہد کے طور پر 30فولڈرز پر مشتمل دستاویزات، 27سی ڈیز، تفتیشی رپورٹ، گواہان کی فہرست، گواہوں کے زیر دفعہ 161 CRPCکے تحت ریکارڈ کئے گئے بیانات سمیت اہم ترین دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں۔نیب کا دعوی ہے کہ ملزمان نے ملی بھگت سے بحریہ ٹاؤن کو غیر قانونی طور پر 17ہزار671ایکڑ سرکاری زمین الاٹ کی گئی۔ اراضی الاٹمنٹ کے لئے سندھ اسمبلی سے ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2013منظور کرایا گیا۔ ضلع ملیر کے 43دیہات بحریہ ٹاؤن کی زمین میں شامل کراکے لوگوں کو بے دخل کیا گیا۔ نیب نے مضبوط دلائل کے ساتھ ریفرنس کی منظوری کے لئے احتساب عدالت سے استدعا کی ہے۔عدالت نے ملزمان کو 25فروری کے لئے نوٹس جاری کردیئے۔ نیب نے ریفرنس میں کہا ہے کہ 2015سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ دیہہ بولہاری، دیہہہ لنگھچی، دیہہ کونکار، دیہہ کھار کھارو، دیہہ کاٹھور، ضلع ملیرکے 43دیہاتوں ضلع ملیر اور ایم نائن موٹر وے کے قریب زمینوں پر بحریہ ٹاؤن کی جانب سے قبضہ کیا جا رہا ہے۔ شکایات پر 13نومبر 2015کو انکوائری شروع کی گئی۔ 7اکتوبر 2016کو چیئرمین نیب کی اجازت کے بعد اسے انوسٹی گیشن میں تبدیل کردیا گیا۔ جس سے سینڈیکیٹ بنا کر ملزمان کی ملی بھگت سے قبضوں اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا کر ملک ریاض اور دیگر کو فائدہ دیا گیا۔ نیب نے انکشاف کیا کہ مذکورہ کاروائیوں کے لئے دیئے گئے اشتہار میں جگہ واضع نہیں کی گئی۔ منظم کرائم کیا گیا۔ 25جولائی 2013کو ڈی جی ایم ڈی اے محمد سہیل نے خلاف قانون ضلع ملیر کے 43دیہات کی سمری کی منظوری دی گئی۔ 19ستمبر 2013کو سندھ اسمبلی سے MDAترمیمی بل منظور کرایا گیا۔ ملزمان نے ملی بھگت سے سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرکے بحریہ ٹاؤن کو 17ہزار671ایکڑ زمین دء دی گئی جس سے قومی خزانے کو 7کھرب،8ارب،8کروڑ، 80لاکھ،83ہزار، 45روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ بحریہ ٹاؤن کو عدالت عالیہ کی جانب سے 21مارچ2019کو سپریم کورٹ نے 16ہزا 896 ایکڑزمین کی مد میں 4کھرب60ارب وصول کرنے تھے۔ جس میں سے 25ارب فوری ادائیگی تھی۔ واضع رہے کہ پاکستان بننے سے قبل رہائشیوں کو انکی زمینوں سے بزور طاقت بے دخل کیا گیا۔ جنہوں نے جھولی پھیلا پھیلا کر بددعائیں دیں۔ لیکن حکومت سندھ، بیورو کریسی اور نامزد کردہ ملزمان نے انہیں بے دخل کرکے زمین بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کردی۔ اسی طرح نیسلے ٹاور اور مختلف زمینوں کے معاملات میں جس میں گزری کی بھی زمینیں ہیں نیب سے ضمانت پر افسران سسٹم کے تحت اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ آئندہ پیشی پر عدالت کو موثر جواب ملزمان کی جانب سے نہ ملنے پر گرفتاریوں کی نیب کو اجازت مل سکتی ہے اور ای سی ایل میں نام بھیجے جانے کا امکان ہے۔ کئی شخصیات فرار ہوگئی ہیں اور کئی فرار ہونے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔


