ہزارہ

محنت کشوں کے ساتھ زیادتی قبول نہیں۔ بلدیہ کراچی اور ضلعی بلدیات میں گھپلوں پر تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے۔

جعلی ترقیاں اور تقرریاں اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔ ریٹائرڈ اور پنشنرز کی بروقت رقوم کی ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی

کراچی  ایم پی پی پی کی محنت کشوں کے لئے قائم تنظیمی کمیٹی کے نگراں سیف یار خان کے ہمراہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں، عزیر شاہ، زبید اللہ، محمد صابر، عبدالقیوم زئی بھی موجود تھے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ محنت کشوں کے ساتھ زیادتی قبول نہیں۔ بلدیہ کراچی اور ضلعی بلدیات میں گھپلوں پر تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے۔ جعلی ترقیاں اور تقرریاں اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔ ریٹائرڈ اور پنشنرز کی بروقت رقوم کی ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی۔ ٹی ایم سیز ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے لئے دھکے کھا رہے ہیں۔ میئر کراچی نے قانون کو چھوڑ کر ازخود قانون بنا کر کے ایم سی اور ٹی ایم سیز کو لڑا دیا ہے۔ واجبات کی ادائیگی کی جائے۔ ڈی پی سی ٹو اور ڈیتھ کیڈر پر ترقیاں ماروائے قانون ہیں۔پاکستان بھر میں اداروں میں یکساں قانون ہونا چاہئے۔ وفاق اچانک موت پر جو Benefitدیتا ہے وہ صوبہ میں رائج نہیں۔ پنجاب ہائی کورٹ کے فیصلے کی طرح سندھ میں سن کوٹہ بحال کیا جائے۔ سندھ اسمبلی قرارداد منظور کرے۔ کے ایم سی اور ٹی ایم سیز میں جعلی بھرتیوں کا معاملہ تشویش ناک ہے اور اس پر ہمیں قانونی اور دیگر محنت کش تنظیموں کے اقدام کی حمایت کرنے میں کوئی عار نہیں۔ثبوتوں اور میڈیا پر حقائق آنے کے باوجود حکومت کی خاموشی افسوس ناک ہے۔ ہمیں مستقل شکایات موصول ہورہی ہیں۔ ہم اداروں میں توازن اور بہتری کے لئے سب اہم شخصیات اور وزراء اور منتخب نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ بیورو کریٹس بھی مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لسٹیں اور بنک ریکارڈ آنے کے بعد کاروائی نہ کرنا شراکت داری کے مترادف ہے۔ ہم اس سلسلے میں جلد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button