ہزارہ

بلدیہ کراچی کا محکمہ قانون اور اعلی افسران عدالتوں اور اعلی افسران کو گمراہ کرکے سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانے میں مصروف

بلدیہ کراچی کا محکمہ قانون اور اعلی افسران عدالتوں اور اعلی افسران کو گمراہ کرکے سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانے میں مصروف۔ لیز پاور افسران کو کتنے گز کی ہے۔اسکا لیگل ایڈوائزر کو علم نہیں۔ میونسپل کمشنر اور میئرزو ایڈمنسٹریٹرز مکمل پاور ز افسران کو دیتے ہیں۔ تو پھرعدالتوں کو صحیح حقائق کیوں نہیں بتائے گئے؟ لیگل ایڈوائزر خود گلشن ضیاء میں چار 400,400گز کے پلاٹس لے چکی ہیں۔ جنکی ایکسٹرا لینڈ بھی لیز کرالی ہے۔ بعض جج کے ایم سی کونسل کی قرارداد کو نہیں مانتے جبکہ یہ مستند قانون بنانے والی کونسل اسمبلی ہے۔

کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر) بلدیہ کراچی کا محکمہ قانون اور اعلی افسران عدالتوں اور اعلی افسران کو گمراہ کرکے سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ لیز پاور افسران کو کتنے گز کی ہے۔اسکا لیگل ایڈوائزر کو علم نہیں۔ میونسپل کمشنر اور میئرزو ایڈمنسٹریٹرز مکمل پاور ز افسران کو دیتے ہیں۔ تو پھرعدالتوں کو صحیح حقائق کیوں نہیں بتائے گئے؟ لیگل ایڈوائزر خود گلشن ضیاء میں چار 400,400گز کے پلاٹس لے چکی ہیں۔ جنکی ایکسٹرا لینڈ بھی لیزکرانے پر بضد تھیں جو نہ کرنے پر افسران کے ساتھ ذاتی نقصان دینے کے درپے ہیں۔ بعض جج کے ایم سی کونسل کی قرارداد کو نہیں مانتے جبکہ یہ مستند قانون بنانے والی کونسل اسمبلی ہے۔ محکمہ قانون کی غلط پیروی اور اورنگی ٹاؤن و کچی آبادی کے ایم سی کی نا اہلی سے کے ایم سی کی لینڈ چھن چکی ہیں۔ جس میں اتحاد ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن کے علاقے، گلشن ضیاء، کے مختلف علاقے، سیکٹر 111/2شامل ہیں۔ جج کے ایم سی کے وکلاء کو جھاڑ پلا کر بورڈ آف ریونیو کو فیور دے رہے ہیں۔ جبکہ سٹی کونسل کی قرارداد نمبر 566/2009جو سٹی کونسل نے بورڈ آف ریونیو کی NOCکے بعد منظور کرکے اورنگی ٹاؤن کو دی۔ مرحلہ وار چھن رہی ہے۔یہاں کے ایم سی کی دی گئی۔لیزیں بوگس قرار دی جا رہی ہیں۔جو غلام عارف، شوکت ملک، عبداللہ مشتاق، ناصر خان، رضا عباس رضوی، رضوان خان، شارق الیاس، جاوید مصطفی۔مظہر خان، عاطف جاوید، آفاق مرزا سمیت متعدد افسران اور اس سے پہلے کچی آبادی کے سینئر ڈائریکٹرز کرتے رہے۔ جبکہ سٹی ناظم مصطفی کمال نے کونسل کی قرارداد کی منظوری دے کر اسے قانونی حیثیت دے دی تھی۔ لوکل گورنمنٹ کمیشن جو اسوقت متحرک تھا اس نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیاتھا۔چیئرمین اسوقت سکندر پنہور تھے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ معزز جج فائق پٹھان، ذولفقار شاہ، فتح گل مبین و دیگر نے کے ایم سی سے ڈپٹی کمشنرز کی NOCمانگی جبکہ یہ منظوری جب لی گئی تو ڈپٹی کمشنرز کے عہدے ختم ہوچکے تھے۔ وہ ڈی او بن کر سٹی ناظم کے ملازم تھے۔ جبکہ بورڈ آف ریونیو کا ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو بھی سٹی ناظم کے ماتحت تھا۔ اسکی فائل محکمہ قانون میں موجود ہے۔ لیکن لیگل ایڈوائزر نے اسے پڑھنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ 1600گزکی اپنے شوہر مقیم کے نام لیز کراتے وقت انہیں ڈسٹرکٹ افسر یا پی ڈی یا ڈائریکٹر لینڈ /کچی آبادی کی پاورز کا علم نہیں تھا۔ انہیں لیز پاور کالیٹر مانگ کر کچی آبادی کے رولز جس کے تحت قبضہ، یوٹلیٹی بل، FRC۔ لینڈ سرویئر کی رپورٹ اور قانونی تقاضے پورے کرکے لیز یہ محکمے کرتے رہے لیکن میں نہ مانوں کے مصداق جو جج ماروائے قانون زمینیں چھینتے رہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور سینئر ڈائریکٹر کچی آبادی اپیل میں فیصلے کے خلاف چلے گئے۔ اینٹی کرپشن یا نیب کو اسکے متعلق کیوں نہیں بتایا گیا۔ میونسپل کمشنر کو کیوں حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے حقائق سے لاعلم میئر اور میونسپل کمشنر عدالتوں میں تضحیک کا سامنا کر رہے ہیں۔ افسران کو حدف بنا کر الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محکمہ قانون کا با قاعدہ اہلیت کا ٹیسٹ ہونا چاہئے۔ انکی نا اہلی کا یہ عالم ہے کہ جو کیس عدالت میں زیر سماعت ہے اسکی اینٹی کرپشن اور نیب دونوں لیٹرز بھیج دیتے ہیں لیکن انہیں لاء ڈپارٹمنٹ حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے افسران کو ذمہ دار بنا کر انکی پیشیاں کراتا ہے۔ لیگل ایڈوائزر خود چائنا کٹنگ کے کئی کیسوں میں ہیں انکے سارے بچے امریکہ ہیں ہیں۔ نیب اور ححساس اداروں کو ضرورت سے زائد اثاثہ جات کیس میں انہیں چیک کرنے کی ضرورت ہے۔ افسران اور ملازمین کے لئے رائے دیتے وقت انکی اہلیت اور سیاست دونوں چیک کی جائیں۔ تحقیقات کے مطابق مختلف کیسوں میں محکمہ قانون اور محکمے کے قانون سے نابلد افسران ججوں کو Faceنہیں کرسکے۔ 98فیصد کیس کے ایم سی کے حق میں ہونے کے باوجود ہار گئے۔ زمینیں چھن گئیں۔ کے ایم سی کا محکمہ قانون کروڑوں روپے کی زمین اور ریونیو سے کے ایم سی کو محروم کرچکا ہے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب سے سارے محکمے اس محکمے کی شکایات کرتے ہیں لیکن کوئی داد رسی نہیں۔ یہی حال رہا تو افسران جیل میں اور زمینیں لینڈ گریبرز کے پاس چلی جائیں گی۔ یکطرفہ انکوائریز قابلیت نہ رکھنے والے اور لینڈ رولز سے ناواقف افراد سے کراکے کے ایم سی دلدل میں پھنستی جا رہی ہے۔ ایک لیگل ڈپارٹمنٹ کے افسر نے بتایا کہ ہم تو محکمہ کو پھنسا کر ایک طرف ہوجاتے ہیں۔ میڈم آج تک کوئی کیس نہیں جیتیں۔ پرائیوٹ افراد سے پوچھ کر جواب لکھواتی ہیں۔ چیف سیکریٹری کے لیگل ڈپاڑٹمنٹ کو گمراہ کرتی ہیں۔ جبکہ انکے محکمے کی خود اینٹی کرپشن میں انکوائری چل رہی ہے۔لیکن خود کو پارسا اور باقی کو مجرم ثابت کرنا انکا کام ہے۔ جس پر میئر کو اس محکمہ کے خلاف اعلی سطحی انکوائری کرانی چاہئے۔ سیاسی وکلاء کو فارغ کرکے ڈپارٹمنٹ کو آؤٹ سورس کیا جائے۔چند ذہین اور قابل ایڈووکیٹ بھی محکمہ میں ہیں لیکن انہیں کسی گنتی میں نہیں لایا جاتا۔ یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ قاضی فائز عیسی پارلیمنٹ کو سپریم اور عدالتوں کی حد بندی کرکے تاریخی کام کرکے گئے ہیں۔لیکن نچلی سطح کی عدالتیں اب بھی کونسل کے منظور کردہ بل توثیق ہونے کے باوجود عمل نہ کرکے بلدیہ کراچی کو زمینوں سے محروم کر رہی ہے۔ جس پر میئر کراچی کو نجی قانونی ٹیم کی خدمات لے کر ادارے کو Lossسے بچانا چاہئے اور محکمہ قانون کی از سر نو تنظیم نو یا اسے آؤٹ سورس کرنا چاہئے۔Gt g

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button