فن کار ملک و قوم کا اثاثہ ہیں۔ہم جہاں جاتے ہیں پاکستان کی پہچان بنتے ہیں,عاصمہ بٹ
معروف مصنفہ ،ہدایت کارہ و ڈولفن کمیونیکیشن کی چئیر پرسن عاصمہ بٹ نے کہا کہ فن کار ملک و قوم کا اثاثہ ہیں۔ہم جہاں جاتے ہیں پاکستان کی پہچان بنتے ہیں۔فنکار غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ان کا جینا مرنا فن سے جڑا ہوتا ہے۔فن یا فنکار پر آنچ آئے، یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔راولپنڈی آرٹس کونسل کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا جائے۔اگر فنکاروں کی بلا وجہ حق تلفی کی گئی تو جڑواں شہر کے فنکار احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔فنکار پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت سے انصاف کی اپیل کرتے ہیں۔
عاصمہ بٹ نے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے زندگی کے 30 سال فن اور فنکار کی خدمت میں بسر کیے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے ثقافتی اور فنی شعبہ جات میں میری خدمات کو بے حد سراہا جاتا ہے اور مجھے عزت دی جاتی ہے۔میری زندگی میرے ملک کی امانت ہے۔یہی خواہش ہے کہ میری تمام عمر اپنے ملک اور فن کے لئے خدمات انجام دیتے ہوئے گزرے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فن کار حساس دل کے مالک ہوتے ہیں۔یہ حساس جذبوں اور احساسات کو زبان دیتے ہیں۔فنکار معصوم لوگ ہوتے ہیں، ان میں آپ کبھی منافقت یا گھٹیا سیاسی رویوں کی باس محسوس نہیں کریں گے۔عاصمہ بٹ کا کہنا تھا کہ اس وقت دکھ ہوتا ہے جب فنکاروں کو کام کرنے سے روک دیا جائے،یا ان کے کام کرنے کے معاملات میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔فنکار اپنی بے توقیری کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔راولپنڈی آرٹس کونسل میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کروایا جائے۔ یہ مداخلت فنکاروں کے لیے کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے سیاسی عناصر جو مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر راولپنڈی آرٹس کونسل پر من مانیاں کررہے ہیں، ان کے لئے تجویز ہے کہ وہ اسمبلیوں میں جا کر عوامی مسائل پر آواز بلند کریں،عوام کی خدمت کریں ،جو چار ووٹ نہ لے سکے وہ فنکاروں کے مسائل کیا حل کریں گے،انھوں نے کبھی فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کام نہیں کیا ،نہ ہی فنکاروں کو ان سے کوئی توقع ہے۔وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہیں۔راولپنڈی آرٹس کونسل فنکاروں کے لیے ہے ،لہذا اسے فنکاروں تک محدود رکھا جائے۔ہم اپنا کام کرنا باخوبی جانتے ہیں۔کیوں کہ فنکار ہی اس کو بنانے والے ہیں۔اگر فنکار سڑکوں پر نکل آئے تو انھیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے سیاسی مداخلت شروع ہوئی ہے ،راولپنڈی آرٹس کونسل کے دروازے فنکاروں پر بند کر دیے گئےہیں۔اگر فنکاروں کے جائز حقوق غصب کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو فنکار احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔عاصمہ بٹ نے فنکاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ فنکاروں کے لیے بنائے گئے اداروں کو سیاست سے پاک رکھنے میں اپنا مثبت اور منصفانہ کردار ادا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


