پرویز اپ نے کیا یاد کرا دیا کن حسین لوگوں سے اپ نے جدہ میں اپنے انکل کو اداس کر دیا اور ابھی شعر یاد ایا جب ہم چھوٹے تھے تو نیچے والے مکان جو ہمارے دادا جان کے اور میرے والد صاحب کے تھے وہاں بھائی ریاض نے سکول بنا رکھا یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی 67 کی بات ہوگی تقریبا یا 66 کی
وہاں انہوں نے ایک شعر لکھا ہوا تھا اور اس کو بڑا خوبصورت کر کے کاغذ پہ کلر کیا ہوا تھا کہ یہ دنیا غم تو دیتی ہے شریک غم نہیں ہوتی
کسی کے دور رہنے سے محبت کم نہیں ہوتی
کچھ تھوڑی دیر پہلے بھائی یاد ائے تو میں نے یہ شعر لکھ دیا اور آپ نے کیا یاد کرا دیا اور حنیف تو کیا ہی بات ہے ہمارا بھانجا پیارا نیارہ بڑی مزیدار باتیں کرنے والا، یہ جوڑی اپ نے تصویر بھیج کے مجھے بڑا یاد کرا دیا ہے ۔ مزیداری کی بات دیکھو کہ بھائی جان کے ہاتھ میں پیالی ہے اور میرے بھانجے کے ہاتھ میں پرچ اور کیا خوبصورت منظر ہوگا جب ان کی محفل ہوگی۔یہ کبھی اخلاق بھارہ کہو والے سے پوچھنا کی کیا سماں ہوتا تھا
چلیں تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں چلیں رکے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
اور پھر ان کی باتوں کی بات کرتا ہوں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
اگر یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
بھائی جان ریاض اس دنیا سے چلے گئے اور خدا کی قسم اس دنیا سے دنیا چلی گئی اور کچھ نہیں تو ہمارا خاندان تو اس میں سے مسکراہٹیں دفن ہو گئی جبین پچھلے سال پنڈی آئے تو ہم۔مدت بعد ہنسے میں نے اس سے کہا جبین بہن ہماری تو باچھیں بھی کھلنا چھوڑ گئی ہیں تم آئی ہو تو ہنسنا شروع کیا ہے اللہ نے انہیں میاں صاحب اور چوہدری صاحب سے نوازا ہے خوش رہیں اباد رہیں
وہ کیا شعر ہے جو ہر بندہ اپنے چاہنے والے کے لیے کہتا ہے وہ شعر یہ ہے
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
پرویز بیٹے یہ دونوں شخص جو یہ ویرانی کے لیے کافی ہے
ہر کوئی مر جاتا ہے قبروں کے نیچے چلا جاتا ہے اس شخص کے چاہنے والے اس کو یہ شعر نظر کرتے ہیں تو ہماری فیملی میں سے کوئی بڑا ہیرا ہے اتنا بڑا ہیرا چلا گیا
کن کن باتوں کو یاد کریں حنیف کی باتیں یاد کریں اس سے کہتا تھا آپ ٹکڑا زیادہ کھاتے ہو یا چوہدری حنیف بابا کا نام لیتا چوہدری حنیف پیارے بچے اگر پیٹنے کو مذہب میں اجازت ہوتی تو میں دو ہتڑ مار کے روتا
اللہ نے کہا کہ میرے بندے اس موقع پر انا اللہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہیں
جدہ میں بیٹھا ہوں اور اس تصویر کو دیکھ کے میں کیا سکون سے بیٹھوں گا میری انکھوں میں انسو ائے ہیں
ریاض بھائی اپ نے بڑا ظلم کیا بڑی جلد چلے گئے شاید آپ کو امتیاز بھائی سے ملنے کی جلدی تھی شاید آپ کا۔پنجاب ہائوس خالی ہو گیا تھا
ہمارے ساتھ ہمارے جیسے بیکار لوگ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے ۔
ہم کیوں زندہ ہیں میں جذباتی ہو رہا ہوں اور جو بندہ جذباتی نہ ہو نا وہ بندہ ٹھیک نہیں ہوتا جو غصے والا ہو وہ ٹھیک ہوتا ہے مس نے لوگ اچھے نہیں ہوتے جو منہ کے اوپر اپ کے ساتھ ہنستے ہیں کھیلتے ہیں لیکن ان کے پاس ایک ایسا چورا ہوتا ہے جو اپ کی جسم میں وہ گھسیٹتے ہیں بہتر ہے انسان ناراض رہے لوگوں سے
میرے پیارے بھائی ریاض یہ آج وہی جدہ ہے جہاں پہ پانچ سال پہلے اپ اور میں نے حج کیا تھا اج حج کے ہی دن ہے ہم بابے کی مکان میں ائے تھے اپ بھی بہت بیمار تھے اور میری ایڑھی میں بھی بہت درد تھا میں اپ کو لے جا کے اپنے دوستوں کے پاس ملانا چاہتا تھا تو اپ کہتے تھے کہ افتخار نہیں یار مجھے مجھے کہیں نہیں جانا مجھے لیٹے رہنے دو
اخری بار تھی جب اپ اپنی اچھی صحت کے ساتھ اپ نے حج کیا باجی بھی ائی ہوئی تھی اب باجی بھی کیا شخص تھا جو رونقین لگانے والا شخص اس کی باتیں اپنی پیاری بہن کی باتیں ہر کوئی اپنے خاندان میں ہمارا چھوٹا بڑا ہو وہ موضوع ہے بحث رہتی تھی
ریاض صاحب کی کیا بات ہے میں ایک دفعہ کہ اپ کو واقعہ سناتا ہوں کہ جب 2014 میں میرا لیڈر عمران خان جدہ سے لے گیا کہا کہ افتخار تم نے بہت کما لیا تم آکے میرا ساتھ دو میں خان صاحب سے دو سال کی چھٹی لے کے آیا تھا چار سال ہو گئے تھے تو کہنے لگے کہ بہت ہو گیا کہ اؤ اؤ نیا پاکستان بناتے ہیں مجھے تو نہیں پتہ تھا کہ نیا پاکستان میرا قائد بنانے نکلے گا تو اس کو کتنی تکلیفیں ہوں گی اور اس کے ساتھیوں کو بھی بڑی تکلیفیں ہوں گی ہم بھی تو گھر سے باہر چھ ماہ در بدر رہے نہیں چار ماہ تک رہے یہ پی ٹی آئی کے ہر لیڈر کی کہانی ہے
میں مکان بنا رہا تھا تو ایک دن ایک ٹیلی فون ایا میں ان کے بستر پہ تقریبا نیم دراز تھا تو بھائی کہنے لگے کہ اور سناؤ یار کیا گپ شپ ہے اتنے میں ایک ٹیلی فون آگیا وہ کسی ریت بجری والے نے پیسے لینے تھے میں نے بھائی جان کو کہا کہ بھائیجان دیکھو یہ زمانہ بھی آگیا ہے کہ افتخار چوہدری لوگوں کے کال نہیں اٹینڈ کرتا کیونکہ پیسے دینے ہیں میں نے ان کو گوجری میں کہا کہ، میں پیا لوگوں کولوں چھپوں,, تھوڑی دیر میں ہنستے ہوئے کہنے لگے یار آپ نے میرے پیسے بھی دینے ہیں اور مجھ سے تو تم چھپے ہوئے نہیں ہو
واقعی میں نے ان کے 50 ہزار دینے تھے اس وقت میں ہر ہنس کے دہرا ہوا کہ میں نے کہا بھائی یہ بات تو مجھے یاد ہی نہیں رہی کہ میں نے بھی اپ کے پیسے دینے ہیں اور اپ سے چھپتا نہیں آپ کے پاس آیا ہوں اللہ آصف کو بہت دے گا اتنا دے گا کہ وہ سنبھالا بھی نہیں جائے گا وہ انگلینڈ واپس جا رہا ہے
یہ دعائیں بڑی لگتی ہیں ہمارے خاندان میں کہ جتنے لوگ بھی ہمارے بزرگ ہوتے ہیں ایک عمر میں اللہ کے ولی ہو جاتے
حنیف کی تو کیا بات ہے
ہنس ہنس کے دوہرا ہو جاتا ہے بندے
چھوٹا بھائی اعجاز بھائی ریاض کے ہاں بکرا منڈی چوک میں جسے بھائی BMC کہتے تھے حنیف کہتا ہے ماموں مجھے پیسے دے کے کہتے ہیں کہ یار حنیف اچار لے کے آ۔
کھانا اندر سے اتا تھا اور اچار باہر دکان سے وہ بھی اخبار کے ایک کاغذ میں جسے وہ کھا کر پھینک دیتے تھے اور اعجاز نے بازار سے روٹی لپیٹنے والا ایک رومال خریدا جس پر حنیف نے اپنے ماموں سے پوچھا کہ ماما جی یہ کیا فضول خرچی کر رہے ہیں اگے سے حنیف کا ماما بولا کہ یار حنیف گھر ایویں نہیں بندے چھوٹیاں چھوٹیاں بچتاں کر کے بندہ بناتا ہے
اللہ تعالی میرے بھائی اعجاز کو خوش رکھے بڑا کمزور ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم بھائی کہیں ایسے ہی بچھڑ نہ جائیں، منظور دلاں وچ غم ریندا کدھرے وچھڑیاں نی مر جائیے,,
کسی کو بیمار کو دیکھتا ہوں تو بڑا دکھی ہو جاتا ہوں کبھی بھائی ذولفقار، نثار کی بیماری دیکھتا ہوں تو وہ میرا دل دکھی ہو جاتا ہے
یہ تصویر مجھے ماضی میں لے گئی ہنی چھوٹا سا میرے ہاتھوں میں پلا بڑا اور بھائی ریاض مجھ سے دو اڑھائی سال پڑے تھے بڑی مزے مزے کی باتیں بہت چالاک اور ہوشیار تھے
اک کتاب لکھے جا سکتی ہے کہ مجھے مولو بنا گئے
میرے بھائی نلہ میں بڑے زبردست یاد ہے ان کی دوستی بے امتیاز سے زیادہ تھی اور وہ چھپ کے جبری چلے جاتے تھے اور میں ان کو ڈھونڈتا رہتا تھا کبھی کبھی خیالات ہے کہ وہ جبری نہ چلے گئے ہوں اور دونوں ہی مجھ سے چھپ کے نکل گئے ہیں چلیں اس دن عید مبارک ہو سی جس دن آن ملاں گے