مسلم ممالک پر سفری پابندیاں ، ٹرمپ آج نیا حکم جاری کرینگے
عراق کو سفری پابندیوں کی فہرست سے نکالے جانے کا امکان ، ایران ، لیبیا ، شام ، صومالیہ ، سوڈان اور یمن پر بدستور پابندی جاری رکھی جائے گی
واشنگٹن (پاکستانی پوسٹ نیوز) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ متوقع طور پر آج پیر کو امریکا میں امیگریشن سے متعلق ایک نئے انتظامی حکم نامے پر دستخط کرینگے ۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ حکم نامہ قبل ازیں انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ اس حکم نامے کے بعد جاری کیا جائے گا جس پر عمل درآمد وفاقی عدالت نے عارضی طور پر روک دیا تھا ۔ نئے متوقع حکم نامے سے متعلق تفصیلات میسر نہیں ہو سکیں تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ دی تھی کہ نئے حکم نامے میں عراق ان مسلم اکثریتی ملکوں میں شامل نہیں ہوگا جو اس اقدام سے متاثر ہوئے تھے ۔ امریکا کی وفاقی عدالتوں نے انتظامیہ کے 27 جنوری کے سفری پابندیوں سے متعلق حکم نامے پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا تھا ، جس کے تحت عراق ، ایران ، لیبیا ، صومالیہ ، سوڈان ، شام اور یمن کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی تھی ۔ اس حکم نامے کے تحت تارکین وطن سے متعلق امریکا کے پروگرام پر بھی عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا گیا تھا ۔ ٹرمپ نے قبل ازیں عارضی سفری پابندیوں سے متعلق حکم نامے پر دستخط کرنے کی وجہ دہشت گردی سے متعلق خدشات کو قرار دیا تھا ۔ پہلے حکم نامے کے فوری نفاذ کی وجہ سے امریکا کا ویزا رکھنے والوں کو ہوائی اڈوں پر نہ صرف بد نظمی کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ کئی ایک کو جہازوں سے اتار دیا گیا یا انہیں امریکا کے ہوائی اڈوں سے واپس بھیج دیا گیا تھا ۔ امریکی صدر ٹرمپ متوقع طور پر ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے میں نئے حکم نامے پر دستخط کریں گے ، اگرچہ صدر کی طرف سے قبل ازیں جاری کیا گیا حکم نامہ بیرون ملک انتہائی غیر مقبول ہے تاہم اس اقدام کے فوری بعد ہونے والے ایک عوامی جائزے کے مطابق تقریباً نصف سے زائد امریکی شہریوں نے اس کی حمایت کی تھی ۔ عراق کو استثنیٰ دینے کا فیصلہ داعش کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں کیا گیا ہے ۔



