سندھ نے موہنجو داڑو پر بھارتی دعوے کو مسترد کر دیا
سندھ حکومت کا مؤقف، موہنجو داڑو پاکستان کا تاریخی اور ثقافتی ورثہ ہے، بھارتی دعوے کی کوئی قانونی یا تاریخی حیثیت نہیں۔

سندھ حکومت نے موہنجو داڑو کے حوالے سے بھارت کی جانب سے کیے گئے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عظیم تاریخی ورثہ پاکستان کی سرزمین پر واقع ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے ثقافتی اثاثے کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ حکام کے مطابق موہنجو داڑو نہ صرف سندھ بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ تہذیبی میراث ہے، تاہم اس کی جغرافیائی، انتظامی اور قانونی حیثیت واضح طور پر پاکستان کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
صوبائی حکام نے کہا کہ موہنجو داڑو تقریباً پانچ ہزار سال قدیم وادیٔ سندھ تہذیب کا ایک اہم مرکز تھا اور اسے اقوام متحدہ کے ادارے UNESCO نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ اس تاریخی مقام کی حفاظت، تحقیق اور دیکھ بھال پاکستان اور سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، جو مسلسل انجام دی جا رہی ہے۔
سندھ حکومت کے ترجمانوں نے زور دیا کہ تاریخی ورثے کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موہنجو داڑو کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن اس پر کسی دوسرے ملک کا دعویٰ تاریخی حقائق اور بین الاقوامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
حکام نے کہا کہ سندھ حکومت موہنجو داڑو کے تحفظ، بحالی اور عالمی سطح پر اس کی ترویج کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ آنے والی نسلیں اس عظیم تہذیب کے آثار سے آگاہ رہ سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور شناخت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔



