ہفتہ انسداد رشوت ستانی مہم کا انعقاد:خیبر پختونخوا حکومت کا احسن اقدام
تحریر: عبدالقیوم محکمہ اطلاعات پشاور
خیبر پختونخوا حکومت نے2دسمبر تا9 دسمبر 2024 تک صوبے میں انسداد بدعنوانی سے متعلق عوامی آگاہی ہفتے کا انعقاد کا فیصلہ کیا جس کا اختتام آج بروز پیر 9 دسمبر 2024 کو عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی پرنشتر ہال پشاور میں منعقدہ سیمینار کے انعقاد سے ہوگا۔جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین خان گنڈاپو مہمان خصوصی ہوں گے۔
ہفتہ بھر مہم میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کا کلیدی کردار رہا، ساتھ ہی دیگر محکموں، اداروں اور انتظامیہ نے مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مختلف تقاریب، سیمیناراورآگاہی واک کا اہتمام کیا۔ دفاتر کے باہر کرپشن کی روک تھام کے بینرز اورپرنٹ، الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا اور ایف ایم ریڈیوزپر بھی بھرپور آگاہی دیکھنے کو ملی، جبکہ عوام نے کرپشن کے خاتمے کی کوششوں کو سرہاتے ہوئے سوشل میڈیا اور ریڈیو ز کے پروگراموں میں اپنی آراء و تجاویز بھی دیں۔
ہفتہ بھر کی یہ مہم انتہائی مستحسن اقدام ہے جس کی بدولت بدعوانی و رشوت ستانی کی روک تھام کے سلسلے میں کافی حد تک لوگوں میں شعور اجاگر ہوگااور امور کی انجام دہی میں غفلت برتنے، کام چوری کرنے اور رشوت لینے کے مرتکب افراد کواپنی اس عادت پرضرور شرم اوراحسا س محسوس ہوگا کہ وہ لاپرواہی اور کوتاہی کر کے نہ صرف ملک و قوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اپنی دنیا و آخرت کوبھی برباد کر رہے ہیں دنیا میں کوئی قوم اور معاشرہ ترقی نہیں کر سکتے جن کے اندربدعوانی اور رشوت ستانی کے عوامل موجود ہوں۔کرپشن کرنااور رشوت لینا دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ بدعنوانی کینسر کی طرح ہماری سو سائٹی میں پھیل رہی ہے اس لیے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں خلوص نیت کے ساتھ ایسے اقدامات اٹھائیں جن کی بدولت صوبے کو ر شوت ستانی کے ناسور سے پاک کیا جا سکے۔
موجودہ صوبائی حکومت نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سمیت متعدد سرکاری اداروں اور محکموں میں شکایات سیل قائم کر رکھے ہیں تاکہ نظام کی شفافیت یقینی ہو اور بدعنوانی و رشوت ستانی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل بھی بروقت حل ہوں۔مزید برآں ان شکایات سیل کی بدولت لوگوں کو فوری انصاف کی فراہمی، مظلوموں کی داد رسی، تھانوں میں ایف آئی آر کے اندراج جائدادوں کی منتقلی،گرانفروشی کے سدبات، شہریوں کو ڈومیسائل، کیریکٹر سرٹیفیکیٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں درپیش مشکلات کے حل کے حوالے سے کافی بہتری آ رہی ہے۔عوام کرپشن کی نشاندھی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے واٹس ایپ نمبر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے آن لائن پورٹل ” اختیار عوام کا ” کے ذریعے کر رہے ہیں انکی شکایات پر کاروائی ہو رہی ہے اورشکایت کندہ کی شناخت کو بھی صیغہ راز میں رکھا جاتاہے صوبے میں بد عنوانی کی روک تھام کے لئے صوبائی حکومت کے یہ بہترین اقدامات ہیں۔
مذہبی اوراخلاقی طور پر بدعنوانی ایسے عمل یا فوائد کے حصول کو کہہ سکتے ہیں جن کا حامل قانونی طور پر حقدار نہیں ہوتا اور وہ دوسروں کا حق چھین رہا ہو تاہے۔بدعنوانی پوری دنیا کا مسئلہ ہے یہ ایک ایسی معاشرتی اور اخلاقی لعنت ہے جو کسی بھی نظام کی بنیا دکو کھوکھلہ کر دیتی ہے جس میں کوئی ایک فرد، گروہ، یا ادارہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے طاقت، عہدے، اختیارات یا دیگر امور کو ستعمال کرتے ہوئے ناجائز فائدے حاصل کرتا ہے اور دوسروں کو ان کے حق سے یا تو محروم کر دیتا ہے یا حق پہنچانے میں غفلت، چوری اوردیگرتکالیف کا موجب بنتاہے۔
وطن عزیز کو اس وقت جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، ان میں بدعنوانی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا خاتمہ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کونکہ یہ ایکایسا زہر یلہ عمل ہے جو ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ترقی تب ہوگی جب پوری ایمانداری اور خلوص نیت کے ساتھ ہر فرد اپنے اوپر عائد قومی و ملکی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائے گا اور خندہ پیشانی کے ساتھ دوسروں کو ان کا حق پہنچائے گا اگر متعلقہ شعبوں کے ملامین پورے احساس اور جذبے کا ساتھ کام کریں گے توان شعبوں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور عوام کا اعتماد ان پر بحال ہوگا۔
بد عنوانی کے مرتکب افراد اپنی ذاتی لالچ و حرص میں مبتلہ ہوکر تمام تر اخلاقی پہلووں اور مذہبی اقدار سے روگردانی کرتے ہیں اور وہ کم سے کم وقت میں ناجائز طریقوں سے اضافی پیسو ں کے حصول یا دیگر فوئد کی خاطر اپنی دنیا و آخرت بربادکرتے ہیں کیوں کہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے لوگوں کو دنیا میں بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دین اسلام میں ان کے لئے آخرت میں بھی سخت سزا سنائی گئی ہے۔زیادہ تر بد عنوانی عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کی جاتی ہے یا عوامی فنڈز کے استعمال میں خرد برد کی جاتی ہے۔ حالاں کہ یہ ہر شخص کے پاس امانت ہیں اور مالیاتی نظام کے اندر دیانت اورامانت کوبہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔آئیے ایک ذمہ دار شہری اور محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے اپنا فرض نبھاتے ہوئے کہ حق اور باطل کی پہچان کریں اوربد عوانی کی راہ روکنے کے لئے انفرادی و اجتماعی جدجہد کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکیں تاکہ ہمارا صوبہ اور ملک ترقی سے ہمکنار ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔