ہزارہ

ٹریفک نظام میں دیرپا بہتری کے لیے چلان کے بجائے آگاہی پر توجہ مرکوز

ڈی ایس پی ٹریفک سراج خان کا پختونخوا ریڈیو ایبٹ آباد کے پروگرام آوازِ خلق میں خصوصی گفتگو

ایبٹ آباد میں ٹریفک نظام کو مؤثر، محفوظ اور دیرپا بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے نئی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے، جس کے تحت چلان کے بجائے عوامی آگاہی کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ ڈی ایس پی ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹر ایبٹ آباد سراج خان نے کہا ہے کہ ٹریفک مسائل کا مستقل حل صرف سخت کارروائی نہیں بلکہ شہریوں، خصوصاً نوجوانوں میں ٹریفک قوانین سے متعلق شعور بیدار کرنا ہے۔

ڈی ایس پی سراج خان نے پیر کے روز پختونخوا ریڈیو ایبٹ آباد کے معروف پروگرام آوازِ خلق میں شرکت کے دوران شہر اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کی صورتحال، درپیش مسائل اور اصلاحی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس چلان سے متعلق موجودہ پالیسی پر نظرِ ثانی کر رہی ہے اور کم سے کم چلان کے ذریعے عوام کو قوانین پر عمل کی ترغیب دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی اس وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب شہری اس کی اہمیت کو سمجھیں۔ اسی مقصد کے لیے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جا کر نوجوان نسل کو ٹریفک رولز، روڈ سیفٹی اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ سے متعلق آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈی ایس پی سراج خان کے مطابق نوجوانوں میں شعور پیدا کر کے مستقبل میں ٹریفک حادثات اور بدنظمی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ڈی ایس پی ٹریفک ہیڈکوارٹر نے بتایا کہ پبلک سروس ڈرائیورز کے لیے بھی مختلف مقامات پر آگاہی اور تربیتی پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں بس، ویگن اور رکشہ ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین، لین ڈسپلن اور مسافروں کی حفاظت سے متعلق عملی رہنمائی دی جاتی ہے۔ ان پروگرامز کا مقصد ڈرائیورز کو سزا کے خوف کے بجائے ذمہ داری کے احساس سے ہمکنار کرنا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر ٹریفک قوانین اور روڈ سیفٹی سے متعلق اسباق کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تو یہ اقدام طویل المدتی بنیادوں پر نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انفورسمنٹ کے ذریعے ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جا سکتی ہے، تاہم ایبٹ آباد میں تنگ سڑکیں، خطرناک موڑ، تجاوزات اور ایک ہی مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کا زیادہ دباؤ جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔

ڈی ایس پی سراج خان نے یقین دہانی کرائی کہ ٹریفک پولیس دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور جلد ہی شہر میں ٹریفک نظام میں مثبت تبدیلیاں نظر آئیں گی، جس سے شہریوں کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کو بھی سہولت میسر آئے گی۔

آخر میں انہوں نے عوام، خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں، کیونکہ قوانین پر عمل درآمد نہ صرف اپنی جان کے تحفظ کا ضامن ہے بلکہ شہر میں محفوظ اور رواں ٹریفک نظام کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button