کالمز

علم و ادب کے سرمایہء افتخار ، منیر نیازی

خصوصی تحریر : راجہ نورالہی عاطف

اللہ تعالیٰ نے برصغیر پاک و ہند میں متعدد نابغہء روزگار شخصیات پیدا کیں۔ جنہیں مختلف حوالوں سے ممتاز مقام حاصل ہے۔ منیر نیازی کا شمار بھی انہیں نامور شخصیات میں ہوتاہے خصوصا” علم و ادب کے حوالے سے وہ ہماری قومی تاریخ میں بہت نامورہوءے ہیں۔ 

منیر نیازی 9 اپریل 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے قصبے خان پور میں پیدا ہوئے تھے.قیام پاکستان پر خاندان کے ساتھ منٹگمری(اب ساہیوال) آگئے. میٹرک وہیں سے کیا. انٹر میڈیٹ بہاولپور کے صادق ایجرٹن کالج سے اور بی اے دیال سنگھ کالج لاہور سے کیا. نوعمری میں شاعری شروع کردی تھی. 1949ء میں منٹگمری سےایک رسالہ "سات رنگ” بھی نکالا تھا.بعد میں اخبارات و جرائد ریڈیو اور فلم کیلئے بہت کچھ لکھا.26 دسمبر 2006ء کو لاہور میں وفات پائی. ان کی اردو اور پنجابی شاعری کے مجموعےاس بے وفا کا شہر‘ تیز ہوا اور تنہا پھول‘ جنگل میں دھنک‘ دشمنوں کے درمیان شام‘ سفید دن کی ہوا‘آغاز زمستاں میں دوبارہ، سیاہ شب کا سمندر‘ ماہ منیر‘ چھہ رنگین دروازے‘ ساعت سیار، پہلی بات ہی آخری تھی، ایک دعا جو میں بھول گیا تھا، محبت اب نہیں ہوگی، چار چپ چیزاں‘ رستہ دسن والے تارے اور سفردی رات کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔منیر نیازی نےمتعدد فلموں کے نغمات بھی تحریر کئے جو بے حد مقبول ہوئے۔1962 میں بننے والی فلم شہیدکے” اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو” سے بہت شہرت ملی. پھر جس نے میرے دل کو درد دیا، کیسے کیسے لوگ میرے دل کو جلانے آجاتے ہیں، زندہ رہیں تو کیا ہےجو مرجائیں ہم تو کیا… بہت مقبول ہوئے.
منیر نیازی نے حنیف رامے کے زیر ادارت ’نصرت‘ رسالے میں فروری 1961 سے اپریل 1964 تک وقفے وقفے سے منوچہر کے قلمی نام سے ادبی کالم لکھے جو دو کتابوں میں محفوظ ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر صدف بخاری نے انھیں ’باب گزری صحبتوں کا ‘کے عنوان سے کتابی صورت میں ترتیب دیا (2014)۔ڈاکٹر سمیرا اعجاز کی مرتب کردہ ’’کلیاتِ نثرِ منیر نیازی‘‘میں بھی یہ کالم شامل ہیں(2017)۔
حکومت پاکستان نے منیر نیازی کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے کمال فن ایوارڈ سے نوازا تھا۔
منیر نیازی کے کچھ اشعار ۔۔۔

چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آگئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو

کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیرؔ

دیکھنا پھر بحر کو اس کی کشش سے جاگتا

دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیا

میں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیا

دل کی خلش تو ساتھہ رہے گی تمام عمر

دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے

تخت خالی رہا نہیں کرتا

غیر سے نفرت جو پالی خرچ خود پر ہو گئی

جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا

جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں

اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

جی خوش ہوا ہے گرتے مکانوں کو دیکھ کر

یہ شہر خوف خود سے جگر چاک تو ہوا

خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں

جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت

شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا

پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ

ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط

اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے

پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہماں تھا

صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button