قومی

سندھ اسمبلی میں ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس کی قرارداد متفقہ طور پر منظور، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ میں بڑی پیش رفت

شرجیل انعام میمن کا ٹریفک، بس سروس، موٹر وہیکل فٹنس، خواتین ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ

سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی میں ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس کی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ محکمہ صحت کی ایمبولینسز کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ سائرن اور لائٹس صرف مریض کو اٹھانے اور ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ہی استعمال کی جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے نئی بسوں کی خریداری کا عمل جاری ہے، کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں جبکہ حکومت سندھ نے مزید 500 بسوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو بہتر اور باعزت ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کرنا حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے۔

سینئر وزیر نے کہا کہ کراچی میں ٹریفک سگنلز کے حوالے سے ڈی آئی جی ٹریفک ہدایات دیتے ہیں جبکہ ان پر عملدرآمد محکمہ ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری ہے۔ شہر میں ماڈل کالونی، گلبرگ، طاہر ولاز، ٹیپو سلطان روڈ، گرو مندر، موچی موڑ، کامران چورنگی، منور چورنگی، اسٹیل ٹاؤن، ٹاؤن شپ کراسنگ اور مدارس چوک اسپارکو سمیت 12 نئے ٹریفک سگنلز نصب کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک سمارٹ سسٹم اور اسمارٹ سٹی منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

شرجیل انعام میمن نے شٹل سروس کو حکومت سندھ کا مؤثر اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بس اسٹینڈز کو شہر سے باہر منتقل کر کے شہریوں کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی گئی ہے، جس پر حکومت کو کوئی مالی بوجھ نہیں اٹھانا پڑ رہا۔

موٹر وہیکل انسپیکشن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پہلے فٹنس سرٹیفکیٹ مینوئلی جاری ہوتے تھے، اب پورا نظام کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے اور بغیر کمپیوٹرائز فٹنس کے کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ سال 2025 کے دوران 56 ہزار سے زائد ان فٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کر کے 8 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ وصول کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے اور آر ٹی اے کے روٹ پرمٹس بھی آٹومیٹڈ کر دیے گئے ہیں اور جعلی پرمٹس کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ کراچی بس ٹرمینل میں جدید سہولیات اور 24 گھنٹے انسپیکشن کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

سینئر وزیر نے بتایا کہ ریڈ لائن اور یلو لائن جیسے ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر سنجیدگی سے کام جاری ہے۔ روزانہ تقریباً دو لاکھ افراد سندھ حکومت کی بسوں پر سفر کرتے ہیں جبکہ گرین لائن کی یومیہ رائیڈرشپ 80 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اورنج لائن اور گرین لائن کو آپس میں منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو دوہرا کرایہ ادا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے پاکستان کی پہلی ای وی بس سروس، خواتین کے لیے پنک بس سروس اور مفت ای وی اسکوٹی اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام اقدامات خواتین کو بااختیار بنانے کی عملی مثال ہیں۔ پہلے سندھ میں صرف 150 خواتین کے پاس موٹر سائیکل لائسنس تھا جبکہ اب 15 ہزار خواتین نے لائسنس کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خصوصی افراد کے لیے بسوں اور ڈبل ڈیکرز میں خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کراچی کے انفرا اسٹرکچر کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button