کالمز

زاویہ کے زاویے

(پروفیسر محمود الحسن سیال (پی ایچ ڈی سکالر

اشفاق احمد کی تصنیف زاویہ ۲۰۰۲ ء میں منصہ شہود پر نمودار ہو کر اتنی مقبولیت اختیار کر گئی کہ اس کے درجنوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اشفاق احمد نے انسانی نفسیات کو کائنات کے مظاہر کے تناظر میں جانچ کرنئے نئے زاویے بیان کیے ہیں۔ بادی النظر میں یہ ان کا ذاتی زاویہ نگاہ ہے لیکن حقیقت میں وہ آپ بیتی کے روپ میں جگ بیتی کا اظہار کر کے ہر شخص کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں اور توجہ اس انداز میں مبذول ہوتی ہے کہ سننے اور پڑھنے والے اس میں ڈوب جاتے ہیں۔

زاویہ کو ۴۷ عنوانات میں منقسم کر کے ہر موضوع کو جدا گانہ حیثیت دی گئی اور موضوع کے گرد چکر لگاتے ہوئے اپنے مطابق حقیقت ظاہرہ کو بیان کرتے ہیں اور مظہر بہت کے پس پردہ جو حقیقت مور کہ پوشیدہ ہے اسے بیان کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ حقیقت جو حقیقت مورکہ کے طور پر اشفاق احمد کا اپنا زاویہ نگاہ ہوتی ہے حقیقت حقیقی کا پر تو معلوم ہوتی ہے۔

بہروپ میں اشفاق احمد نے کسی ذات کا ذکر نہیں کیا بلکہ فی الواقع وہ انسانی رویوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ان کا یہ کہنا کہ میں اپنے دکھ کا اظہار کرنے کے لیے ڈیرہ پر چلا گیا اور بابا جی سے کہا میں بڑا دکھی ہوں۔ اس ضمن میں دو کردار صوفی اور چھوٹا صوفی بنائے گے یہ حقیقی کردار نہیں ہیں لیکن واقع میں حقیقت کا اظہار ہے۔ اس میں جس سانپ کا ذکر کیا گیا وہ سانپ صوفیوں کو ایک جانور کی صورت میں فی الحقیقت نہیں ملا تھا۔ بلکہ اس قصے پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایک سانپ ہوتا ہے جو انسان کی ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے اس لیے اس موذں سانپ سے بچنا ضروری ہے۔ صوفیوں کے درمیان سانپ کو ایک علامت کے طور پر استعمال کر کے یہ بتایا گیا کہ نفس امارہ جو انسانی سرشت میں شامل ہے وہ موذی ہے۔ مراد یہ ہے کہ بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا۔ اسے پالنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی بدولت انسان کا فصلت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ سانپ کی عادت ہے کہ وہ ڈس لیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو بھی سانپ ہی بن جانا چاہیے۔ سانپ کی سرشت کے حامل دوست سے بدلا چکانے کی ضرورت نہیں لکھتے ہیں :

"یہ جو تمہارے خلاف لکھتا ہے اس کا شکر یہ ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے تم ناراض ہو ۔“

یہاں پہ زاویہ سامنے آتا ہے کہ اشفاق احمد کے نزدیک مخالفت کرنے والے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور یہی طریقہ اختیار کرتے ہوئے دشمن سے ناراض نہیں ہونا چاہیے۔

اس زاویہ نگاہ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ ایک ایسی سمت میں راہ نمائی کرتا ہے جہاں دشمن کو معاف کرنے کا درس ملتا ہے اس میں شک نہیں کہ عفو و درگزرا ایک اعلی عمل لیے اور یہ مادہ اگر سرشت میں شامل ہو تو بڑی سے بڑی خطا پر درگزر کرنے میں بھی کوئی شامل نہیں ہوتا یہ درس ایک عمدہ درس ہے یہ زاویہ ایک مصائب زاویہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عملاً ایسا ممکن ہے۔ بعض اوقات عفو و درگزر کے واقعات تاریخ انسان کا حصہ ہیں لیکن مجموعی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے۔ انسان کے اندر انتقام کا مادہ موجود ہے انتقام لے کر قرار حاصل کرنا انسانی سرشت میں شامل ہے اس فطرت کے باوجود انسان سے عفو کی توسیع کی جاتی ہے۔ اشفاق احمد نے انتقام، بدلہ اور غصہ کی نفی کر کے صلح و آشتی ، یگانگت اور محبت کو بہتر خیال کیا شخصی خامیوں اور انہیں تسلیم نہ کرنے کے بارے میں اشفاق احمد لکھتے ہیں :

"انسان میں اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر جو خامیاں ہوتی ہیں ان کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس میں جو ہے مجھ میں کیوں نہیں تو ایک حسد کہہ سکتے ہیں یا انسان کی شخصی کمزوری کہہ سکتے ہیں۔“

کچھ کمزوریاں قدرتی طور پر انسان میں پائی جاتی ہیں اس ضمن میں اشفاق احمد کا خیال ہے کہ آدمی جتنا بڑا ہو جاتا ہے اس کا ظرف بھی اتنا ہی بڑا ہو جاتا ہے وہ چیزوں کو برداشت بھی کر لیتا ہے سن بھی لیتا ہے ان کی خدمت بھی نہیں کرتا۔ دراصل دوسروں کی خدمت کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے اس عزت نفس مجروح ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اگر عزت نفس مل جائے اور بڑا ہونے کا احساس پیدا ہو جائے تو پھر اسے دوسروں کی خدمت کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔

اشفاق احمد کے اس زاویہ پر توجہ دی جائے تو اہم ترین عزت نفس ہے جو دیگر بیات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ دولت ،شہرت اور حسن کو اہمیت نہ دے کر عزت نفس کو اہم تر قرار دیا گیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کس حد تک درست ہے کہ عزت نفس پیدا کر کے اصل منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔ انسان کی اصل منزل حقیقت مطلق کی دریافت اور رسائی کو قرار دیا جائے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا سفر مظہریت سے شروع ہو کر حقیقت حقیقی تک بہ آسانی طے ہو سکتا ہے لیکن حقیقت حقیقی سے حقیقت مطلق کا سفر اپنی ذات کی نفی کرنے پر حاصل ہوسکتا ہے عزت نفس ذات کی نفی نہیں کرتی بلکہ عزت نفس پروری ہے۔ اشفاق احمد کے خیال میں بے چینی انسان میں رہتی ہے اور ہمیشہ رہے گی اس نکتہ کو اشفاق احمد اس مثال سے بیان کرتے ہیں کہ ایک بہت اچھا پلیر ہے اچھی گیم کھیلتا میں نہیں کھیل سکتا میں تو ایک بوڑھا آدمی ہوں مجھے چاہیے کہ میں خوش ہوں واہ جی واہ کیا اچھا کھیلتا ہے میں کہتا ہوں یہ توں کچھ بھی نہیں فضول ہے اس میں کیا ہے۔ اس طرح کے جذبات کا پیدا ہونا حسد کے مادہ کی وجہ سے ہے یا عین فطرت لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ کیفیت حقیقت سے غافل کرنے کی طرف راغب ہوتی ہے یہ انسان کی کمزوری ہے اس لیے یہ کہنا کہ عزت نفس سے اس کمزوری کو دور کیا جا سکتا ہے ایک اچھوتا خیال اور نیاز او یہ ہے۔

میں یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ اشفاق احمد کا زاویہ نگاہ درست سمت میں رہنمائی نہیں کرتا لیکن اتناضرور ہے کہ کائنات کی رنگارنگی اور انسان کی ۔ ۔ مزاجی محض عزت نفس پر قناعت کر کے سکون وقرار حاصل نہیں کر سکتی اس کی وجہ یہ ہے کہ حصول عزت نفس انسان کی منزل نہیں۔

انسان از ابتدائے آفرینش حقیقت کا متلاشی رہا ہے وہ ایک حقیقت کو پا کر اسے رد کرتا اور اصل حقیقت کی تلاشش میں نکل جاتا ہے اس طرح حقیقت در حقیقت کا یہ سفر صدیوں سے جاری ہے اور میری دانست میں حقیقت مطلق تک رسائی ہو جانے تک جاری رہے گا اور یہ انسانی نفسیات کا جز ولا ینفک ہے کہ وہ منزل کے حصوں تک بے چین قرار ہی رہتا ہے۔

انسانی نفسیات ایک اہم موضوع ہے اس عنوان پر جو کچھ لکھا گیا وہ ہمتی نہیں ہے بلکہ نفسیات کی دریافت کا عمل جاری و ساری ہے۔ ماہرین نفسیات نے نفس روح اور ذہن کو ایک ہی شے سے تعبیر کیا نفسیات کے ذکر میں یہ بات ضروری ہے کہ مظاہر نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا ان کے نزدیک روح نفس جدا گانہ حیثیت کا حامل ہے۔ یہاں نفس کی بحث مقصود نہیں بلکہ نفسیات کو اس تناظر میں سمجھنا جو اشفاق احمد نے بچوں کی نفسیات سے تعبیر کیا اور بچوں کی نفسیات کو اپنے انداز سے بیان کیا کہ بچے سوچ سمجھ فہم و ادراک سے عاری ہوتے ہیں اور جو جی میں آتا ہے نتائج سے بے خبر کر گزرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

"تو وہ چھوٹا آ گیا اس نے کرسی میرے اس طرف ڈال لی اور میرے قریب بیٹھ گیا اور میرے چہرے کو غور سے دیکھتا جارہا ہے کہ یہ کیا چیر ہے عجیب وغریب سی ۔ کیسے کپڑے پہنے ہوئے ہیں کس قسم کا آدمی ہے ۔ باد بود اس کے دونوں بچے بہت اچھی اٹالین بولتے تھے میں بھی ٹھیک ٹھاک بولتا تھا۔ باتیں ہم کرتے رہے جب کھانا لگ گیا وہ دہی کا ایک پیالہ اس کو میرے شواب میں ڈال دیا ۔“

اشفاق احمد بچے کی بے ہنگم شرارتوں کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ بغیر سوچے سمجھے ہر چیز کو نہیں نہیں کر رہا تھا اور اس کی ماں ہر بات پر معذرت کیے جارہی تھی اور یہ کہتی تھی کہ وہ بچوں کو منع نہیں کرتے چونکہ منع کرنے سے بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔ جب بچوں کی ۔۔ فون سننے کے لیے ادھر ادھر ہوئی تو اشفاق احمد نے بچوں کو ڈانٹ اور دو بچے خاموشی سے بیٹھ گے اب بچے ہر قسم کی شرارت سے گریزوں ہوئے۔ ماں یہ کبھی کہ بچے شرارتیں کرنے کے بعد سنجیدہ اور مہذب ہو گئے ہیں۔

اشفاق احمد دراصل بچوں کی نفسیات بیان کرتے ہوئے یہ بیان کرتے ہیں کہ والدین بچوں کی نفسیات سے واقف نہیں۔ والدین کے بچوں کو منع کرنے کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ دستر خوان کو الٹ رہےتھے اور ڈانٹ کا میداثر ہوا کہ وہ انسان کے بچے بن کر سنبھل گے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو ڈانٹ کر سنجیدہ اور خاموش کرنے کا عمل سودمند ہے بابچوں کو شتر بے بہار چھوڑ دینے کا عمل فائدہ مند ہے۔ اشفاق احمد نے جو منظر کشی کی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی نفسیات کا تقاضا ہے کہ انہیں ۔ ۔ کر رکھا جائے یہ بات درست ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ سے وہ ہر قسم کی شرارت سے اجتناب کرتے ہیں لیکن اشفاق احمد نے بچوں کی نفسیات کے باب میں یہ بیان نہیں کیا کہ کس عمل کا بچوں کی صحت اور مستقبل پر کیا اثر نمودار ہوتا ہے۔ خودی عمل کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ سے ہی درست رکھا جا سکتا ہے۔ اشفاق احمد ایک مضمون میں انسان کی نفسیات کو اس طرح بیان کیا کہ انسان کو نا شکر ظاہر کیا لکھتے ہیں:

"لیکن اس کے ساتھ انسانی کمزوری ہے گرنے والا جو مقام آتا ہے تو وہ بھی ساتھ چلتا ہے اس وقت آدمی یہ ضرور سوچتا ہے کہ یہ میرے ساتھ میرے دوستوں کے ساتھ میرے عزیزوں کے ساتھ کیا ہورہا تو اس میں عزیز ان گرامی زیادہ کوتا ہی اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان جو ہے وہ بڑا بے صبرا اور ناشکرا ہے اور اس کی ایک خاصیت ہے۔ چھوٹے سے دھبے کو پھیلا کر نہ صرف اپنی زندگی پر نہ صرف اپنے علاقہ پر بلکہ ساری دنیا پر محیط کر لیتا ہے اور خود اس کے دائرے کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔“

اشفاق احمد نے انسان میں موجود رد عمل کی قوت کا اظہار کرنے کے لیے ناشکرا انسان کو سرنامہ کلام قرار دیا ہے ان کے خیال میں انسان بہت جلد بے صبر ہو جاتا ہے جب صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑتا ہے تو شکر کی منزل سے دور ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصائب و آرام زندگی کا حصہ ہیں جو انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں یہ زندگی کا بہت کم حصہ ہے لیکن انسان نے اسے بہت زیادہ وسعت دے دی ہے اور خود پر اس قدر حاوی کر لیا کہ صبر و استقامت سے محروم ہو گیا لکھتے ہیں:

” تو جب مشکلات اور مصیبتیں آتی ہیں تو اگر آپ ان کو غور سے دیکھیں کہ ان کا ایک حصہ بالکل چھوٹا سا فریکشن آپ کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن ہم نے وہ دھبا پھیلا کر اتنا وسیع تر کرلیا ہوتا ہے کہ پھر وہ اپنے ہمارے اختیار میں نہیں رہتا اور پھر وہ پھیلا ہوا دھیا ہمارا حکمران بن جاتا ہے اور جہاں جہاں چاہتا ہے ہم کو اٹھائے پھرتا ہے جیسا کہ میں نے پچھلی مرتبہ کہا اگر اللہ کی ذات اور اس کے افعال کو جاننے کی آرزو ہے تو پھر اس کے احکام کے اندر داخل ہونا پڑے گا اور اس فریکونسی کو حاصل کرنا پڑے گا جس فریکونسی کو پکڑ کر اچھی طرح سے اختیار کر کے ہم ان افعال کو سمجھ سکتے ہیں۔“

یہاں ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ انسان مبتلائے غم ورنج و درد ہوتا ہے تو فی الواقع یہ معمولی بات ہے اور زندگی کے حصوں میں سے ایک معمولی ساحصہ ہے۔ اس حصہ کو برداشت کر کے یا نظر انداز کر کے جو کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ اس حیثیت سے یکسر مختلف ہے جوا سے خود پر حاوی کرنے سے ہوتی ہے۔ یہاں دونوں کیفیتوں کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ یہ معمولی حصہ جو غم ورنج سے متعلق ہے اس وقت غلبہ پالیتا ہے جب انسان اسے سب کچھ سمجھ لیتا ہے لیکن اگر رد عمل یہ ہو کہ اس سے برد آزما ہونے کا عزم ہو تو اللہ کے احکام کی طرف رجوع کرنا چاہیے اس کے نتیجہ میں یہ معمولی حصہ محو ہو جائے گا۔

دراصل اشفاق احمد یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صبر و شکر اور احکام خداوندی پر عمل کی بدولت انسان غم سے نجات پا کر سکون قلب حاصل کر لیتا ہے۔ انسان اس کیفیت کو پانے میں وقت محسوس کرتا ہے اس لیے مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اشفاق احمد نے قوت ارادی کی اہمیت بیان کی ہے تو بے جانہ ہوگا ۔ بعض اوقات ایسی صورت پیدا ہوتی ہے کہ انسان زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے۔ اشفاق احمد کے بقول یہ جو مایوسی کا بھنور ہوتا ہے یہ بڑا ظالم گرداب ہوتا ہے اس کے کنارے کنارے پر آدمی گھومتا ہے تو بچنے کی کچھ اُمید نہیں ۔ اشفاق احمد نے مایوسی کو جدا گانہ سرنامہ کلام قرار دیا ہے لیکن غور سے دیکھا جائے تو یہ گذشتہ عنوان ناشکرا انسان سے پیوستہ ہے جو صورت احوال ناشکر ابناتی ہے وہی کیفیت مایوسی بھی پیدا کرتی ہے۔

"صاحبان علم” کے عنوان سے جو گفتگو اشفاق احمد کی اس نے سوچ کے دریچے وا کر دیے۔ قومی اور عومی سطح پر تعلیم یافتہ اس شخص کو سمجھا جاتا ہے جو کسی ادارے سے فارغ التحصیل ہو یا کم از کم وہ شخص جس نے لکھنا پڑھنا سیکھا ہو لیکن اشفاق احمد نے اس انداز فکر کو بدلنے کے لیے صاحبان علم کی نئی تعریف کی۔ جس زاویے سے صاحبان علم کو بیان کیا گیا ہے وہ بیر کیف عمومی سوچ اور خیال سے یکسر مختلف ہے۔ ان کے نزدیک جو شخص کسی خاص کام کی معلومات رکھتا ہوں وہ اس کام کا عالم ہے بڑھتی جانتا ہے کہ کون سے لکڑی کی کیا خصوصیات ہیں ۔ کس کام کے لیے کونسی لکڑی استعمال ہوگی ۔ لکڑی سے کس طرح مختلف اشیا تیار کی جاتی ہیں غرض یہ کہ بڑھئی اپنے کام کے علم میں پکتا ہے تو اسے عالم کہنے میں کیا مصائقہ ہے۔

اشفاق احمد نے جو بات بیان کی ہے وہ کتنی وزنی ہے علیحد وسوال ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ صاحبان علم کی بحث میں کاریگروں کو شامل کر کے جو دعوت فکر دی ہے وہ اس امر کی متقائی ہے کہ علم کی تعریف کی وضاحت کی جائے۔ علم کسے کہتے ہیں یہ سوال ہے جس کا جواب اشفاق احمد طلب کرتے ہیں۔ علم کی باقاعدہ تعریف خود نہیں کی بلکہ اس بات کو غور کے لیے چھوڑ دیا گیا کہ علم کیا ہے اور عالم کون کون ہے۔ اس موضوع کو زیر بحث لاتے ہوئے علم کی تعریف سے گریز کیا گیا اور ا اللہ پر توجہ مرکوز رکھی گئی لیکن اگلے عنوان میں علم کے بارے میں لکھتے ہیں:

” علم کے بارے میں انسان ہمیشہ سر گرداں رہا ہے اور آج کے درد میں حصول علم کے لیے بہت سی کوششیں صحیح لخلط، کمزور، پیچید و نمیدہ صورت اختیار کی جارہی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں یہ تو ساری کوششیں ہیں یہ انسان کے ایک بہتر مستقبل کی نوید کے لیے یقینا مد و معاون ثابت ہوں گی ۔“

ایک استاد عدالت کے کٹہرے میں پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اشفاق احمد علم کی دو جود و تعریف یا مفہوم سے مطمئن نہیں ہیں بلکہ وہ علم کو تلاش کرنے میں کوشاں ہیں کبھی معمار، بڑھتی، لوہار کے کا کام میں علم تلاش کرتے ہیں تو کبھی استاد کو کٹیرے میں لا کر علم کی دریانت میں کوشاں ہے۔ بیسویں صدی تک علم کی کوئی جامع تعریف نہیں ہوسکی اور علم کے مختلف نظریات مختلف مفکرین بیان کرتے رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں مظاہر ترندی نے تحلیلیاتی تنقید کا نظریہ پیش کرتے وقت علم کو خصوصی اہمیت دی اور اس کی تعریف کرتے ہوئے علم کو عقل اور حقیقت حقیقی کے مساوی قرار دیا۔ گویا اشفاق احمد نے جس علم کی تلاش کا آغاز کیا تھا وہ تلاش اپنے منطقی انجام تک پہنچتی ہے۔

اشفاق احمد کی ایک گفتگو کا سر نامہ کلام دے سے دیا ہے، اس میں مختلف قسم کے غیر متعلق سے واقعات درج ہیں لیکن ان کا باہمی رابطہ اس وقت عیاں ہوتا ہے جب تنقید اور تقی کا مسئلہ زیر غور آتا ہے کہ تنقید کون کرتا ہے اس ضمن میں ادبی تنقید مراد نہیں ہے بلکہ وہ عیب جوئی جو ہم دوسروں کی کرتے ہیں اسے تنقید سے تعبیر کیا ہے فی الواقع تنقید کا مطلب کھرا اور کھوٹا الگ کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں کسی شے کی وہ حیثیت بیان کرتا جیسی کہ وہ ہے لیکن مذکورہ مضمون میں تنقید سے مرادوہ القص بیتی لیا گیا۔

جو ہم ایک دوسرے کے لیے کرتے ہیں ۔ میں کب کسی کی عیب جوئی کروں گا اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ جب میں اسے خود سے برتر پارہا ہوں گا تو اس جیسا بننے کی کوشش میں ہوں گا۔
اشفاق احمد بیان کرتے ہیں :

"میں ذاتی طور پر ایک نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو تنقید کر رہا ہوتا ہے وہ آرزومند اس بات کا ضرور ہوتا ہے۔“

اشفاق احمد کے انداز بیان اور تحریر کے جوہر سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ محبت کو ترجیح دیتے ہیں ان کے نزدیک علم عطا کرنا محبت دینے سے کم تر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں:

” آپ کو مجھ سے محبت لینے کی ضرورت ہے ورنہ علم انورنہیں جاتا۔“

علم کے حصول کے لیے بھی محبت کا ہونا ضروری ہے۔ جب استاد اجرت کے لیے پڑھاتا ہے تو وہ علم پہنچانے میں ناکام رہتا ہے لیکن جو استاد محبت باندھتا ہے اس کا علم پھسل پھسل کر طلبا میں داخل ہوتا ہے۔ علم عطا کرنے میں محبت کو شرط قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ علم بلد محبت حاصل کرنا عبث ہے۔

*کلچر*

عمومی طور پر مفکرین رہن سہن بود و باس اور تمدن کو کلچر سے تعبیر کرتے ہیں کسی معاشرے کی یکساں مجموعی صفات کلچر قرار پاتی ہیں لیکن اشفاق احمد نے کلچر کی عمومی تعریف سے اختلاف کرتے ہوئے کچھ سوالات کا ئنات سورج ، چاند، بادل بجلی زلزلے، طوفان سمندر کے بارے میں رکھتے ہیں ان سوالات میں موت بھی ایک سوال بن کر سامنے آئی ہے۔

کلچر میں موت کو شامل کیا جائے یا نہ کیا جائے ایک علیحد ہ سوال ہے لیکن موت کا خوف ہوت کی آرزو اور موت کے نتائج کلچر پراثر ڈالتے ہیں اس لیے موت کو بھی کلچر کا حصہ تصور کیا جانا چاہیے۔ اشفاق احمد کے نزدیک سوالات کا یکساں جواب دینے والا طبقہ ایک کلچر کا حامل ہے ۔ جو جواب مختلف دینے میں ان کا کلچر مختلف ہے۔ ہم جس معاشرت کے اجزائے ترکیبی کو کچھر نا 9/12 ق احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے ۔ وہ لکھتے ہیں:

"تو انسانی زندگی کو اس زندگی تک محدود نہیں رکھتا چاہیے
بلکہ Here اور Hereafter جب ملتا ہے تب جا کر یہ سفر مکمل ہوتا ہے یا زندگی یا حیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔“

کلچر کا تعلق معاشرے اور معاشرت سے مسلم ہے کسی کا زندہ ہونا یا مر جانا ایک الگ بات ہے لیکن اشفاق احمد نے ایک مختلف زاویہ سے کلچر کو پرکا اور جانچا ہے۔ ان کا زاویہ نگاہ کلچر کے معنی ہیں وسعت پیدا کرتا ہے۔ زندگی کے اختتام تک کلچر شمار کر کے اسے مزید وسعت دی اور مابعد زندگی کے اثرات کو بھی زیر نظر کیا گیا اس طرح کلچر کے جو عمومی معنی ہیں انہیں نظر انداز کر کے نئے فکر کا آغاز کیا ہے۔ اشفاق احمد کا نقطہ نظر موجود خیالات سے یکسر مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ کلچر کی وسعتوں کو سمجھنے کے لیے دعوت فکر بھی دیتا ہے۔ اشفاق احمد کی نگاہ میں روپے پیسے کی کوئی نہیں ان کے نزدیک تو قیر ذات اہم ترین ہے کہتے ہیں:

"ہم نے اس پر بھی غور نہیں کیا کہ لوگوں کو پیسے کی روپے کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی احترام کی عزت نفس کی توقیر ذات کی ہوتی ہے۔“

"موت کی حقیقت” کو سر نامہ کلام قرار دے کر اس امر کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ موت اہل ہے۔ ایک بزرگ کے انداز فکر کو بیان کرتے ہیں ۔ موت سے قبل کلاہ سر پر سجانے اور موت سے ہم آغوش ہونے کا منظر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ بزرگ خوشی سے آنکھیں بند کر کے خوشی کے ساتھ برضائے ذات چلے گئے ۔ یہ بگڑی موت کی تقدیس کے طور پر اس کی عزت افزائی کے لیے ننگے سر پر پگڑی سجالی۔ مرنے والے مرجاتے ہیں لیکن محبت کے تقاضے مرنے کے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ تاج محل آگرہ موت کی علامت نہیں بلکہ محبت کا اظہار ہے موت اپنے ساتھ مصائب و آرام لاتی ہے۔ ترک تعلقات پر مجبوا کرتی ہے لیکن اشفاق احمد نے ایک نیا نقطہ نظر پیش کیا کہتے ہیں:

"میں اپنے ایک نئے زاویے کی نئے رخ کی بات عرض کر رہا ہوں غریبوں کو اتنا پیسہ مل رہا ہے وہاں پر اور آگرے اور اس کے گردو نواح کے لوگ مزے سے ایک تاج محل کی وجہ سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ سینکڑوں سالوں سے وہ ایک صقہ جاریہ ہے جو اس بندے نے جو بیچ بیچ محبت کرنے والے نے بیچ بیچ ایک شخص سے محبت کرنے والے وہ اس کی بیوی ہو کچھ ہو اس کے جواز سے اللہ تعالی نے یہ نعمت عطا کی جس سے کئی غریبوں کی کفالت ہورہی ہے ۔“

موت ایک تلخ حقیقت ہے۔ عورتوں کے سہاگ ماؤں کے جوان بیٹے ، بہنوں کے بھائی چھین لیتی ہے۔ بچوں کو یتیم کر دیتی ہے یتیم بچوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیتی ہے پرورش کی راہیں مسدود کر دیتی ہے موت مصائب کا پہاڑ تو ڑ دیتی ہے لیکن اشفاق احمد نے ان مصائب کے درمیان موت کے نتیجہ میں پیدا ہونی والی نعمت کو موت کی حقیقت قرار دیا۔ کسی ایک کے موت سے آغوش ہونے سے تاج محل آگرہ بن گیا اور ہزاروں لوگوں کی روزی کا سامان فراہم کرنے لگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک دو مثالوں سے موت کو نعمت قرار دیا جا سکتا ہے۔ شخص کی ایک ظاہری اور ایک باطنی صورت ہوتی ہے۔ عام طور پر ظاہری صورت سے کسی شخص کے بارے میں جو اندازہ لگایا جاتا ہے وہ درست نہیں ہوتا۔ اندر اور باہر کی شخصیت میں یکسانیت نہیں ہوتی ۔ وضع قطع سے شریف نظر آنے والا ممکن ہے کہ اندر سے ایسا نہ ہو۔ شخصیت دریافت کرنے کے لیے شخص کے ظاہر پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا لیکن اشفاق احمد نے ایک نقطہ نظر کا اظہار کیا اور اس مقصد کے انھوں نے ایک بھنگن کے لڑکے کے وضع قطع تبدیل کرنے کے عمل کو بیان کرتے ہوئے یہ ارشاد کیا کہ وہ جو ظاہر ہیت کذائی بنائے بیٹھا تھاوہ اس کے اندر کو متاثر کو رہا تھا جو حلیہ اس نے فرخی طور پر بنایا تھا وہ اس کے اندر موجود خاطر مکنون کو متاثر کرتا رہا اور ایک ایسی منزل آگئی کہ بیرونی اور اندرونی شخصیت میں یکسانیت اور یگانگت پیداہوگئی ایک فرخی لباس زیب تن کر کے بزرگ کا روپ دھارنے والا ایک خاص عرصہ کے بعد بیرونی وضع قطع سے اس قدر متاثر ہوا کہ بیرونی وضع قطع اندر سرایت کر گئی اور جو کچھ وہ ظاہر تھا وہی اس کا باطن قرار پا گیا مراد یہ ہے کہ بیرونی لباس شخصیت پر اثرات مرتب کرتا ہے اور ایک مرحلہ ایسا آجاتا ہے کہ اندرو با ہر ایک ہو جاتے ہیں۔ کیا ایسا ہمیشہ ہوتا ہے یا کہیں کہیں ایسا ہونا پایا گیا ایک اہم سوال ہے جو اشفاق احمد کے زاویہ نگاہ نے پیدا کیا ہے۔

اشفاق احمد نے اپنے لیکچرز میں مختلف موضوعات کوسر نامه کلام قرار دیا اور نہایت سادہ اور سلیس انداز میں گفتگو کر کے سامعین کو متاثر کیا ان کے طرز کلام اور طرز اظہار کو دل کش پاکران کے ارشادات کو ایک کتاب زاویہ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ ہر موضوع پر اشفاق احمد نے اپنا زاویہ نگاہ بیان کیا۔ اپنے نظریات کو نئے نظریات کے طور پر پیش کیا۔ قصے کہانیوں سے بات شروع کر کے اہم معاملات کی طرف موڑ دی گئی اور اپنا نقطہ نظر اچھو کے انداز میں پیش کیا۔ ان کے ارشادات کے پس پردہ ان کا خاطر مکنون موجود ہے۔ بیرونی دنیا سے حاصل ہونے والے مظاہر جب خاطر مکنون سے متصادم ہوتے ہیں یا آمیزش کرتے ہیں تو اشفاق احمد کا رد عمل ظاہر ہوتا ہے۔ تمام موضوعات جدا گانہ میں لیکن خاطر مکنون ایک ہی ہے اس لیے ان تمام عنوانات کی اساس ایک ہی مکون موجود پر نظر آتی ہے۔

اشفاق احمد کا نقطہ نظر ہشتاد پہلو ہے لیکن اس کی بنیاد پر دو اہم افکار پائے جاتے ہیں۔ ایک فکر وہ ہے جو عزت نفس اور تو قیر آدمیت کی بنیاد پر اور دوسرا فکر معاشرتی اقدار پر ہونے والے غیر محسوس ہیں جنھیں اشفاق احمد درد کرتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button