
دسمبر 2024 ختم ہونے کو ہے .پشاور ان دنوں شدید سردی کی لہر میں لپٹا ہے .دھوپ میں بیٹھ کر بھی ٹھنڈ لگتی ہے گیزر کافی دنوں سے خراب پڑا تھا اللہ اللہ کر کے کل ٹھیک ہوا گرم پانی سے وضو کیا اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا .نماز پڑھی اور شکرانے کے نفل ادا کیے۔ٹی وی دیکھنے بیٹھی تو اچانک ایسا لگا جیسے کسی نے دل مروڑ کر رکھ دیا ہو .پشاور سے چند گھنٹوں کے فاصلے پر ہمارے اپنے بہن بھائی شدید سردی میں احتجاج کرنے بیٹھے ہیں اطلاع ہے کہ سو سے زیادہ بچے ٹھنڈ لگنے سے نمونیا اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو گئے راستے بند ہونے کی وجہ سے دوائیں نہ ملیں اور یہ بچے خالق حقیقی سے جا ملے.نہ جانے کیوں ایسے موقع پر ہیٹر کی تمازت گیزر کا گرم پانی مجھے ایک بچھو کی مانند کاٹنے لگا .ہمارے اپنے بہن بھائی اتنی مشکلات میں ہیں .دوسری طرف سکیورٹی اور پولیس کے بے گناہ جوان موت کے گھاٹ اتارے جا رہے ہیں .آخر کب تک موت کا یہ رقص جاری رہے گا. صوبائی حکومت کی ترجیحات میں اسلام آباد پر چڑھائی کرنا ہے .اپنے صوبے میں بے گناہ لوگ اتنی مشکلات کا شکار ہیں .وہ چاہے کسی بھی مذہب ٫فرقے سے تعلق رکھتے ہوں ٫ہیں تو وہ انسان ٫ پاکستانی اور اتنے ہی حقوق کے مستحق جتنے کہ ہم.اب تو پنجاب سے بھی ایئر ایمبولنس کے ذریعے دوائیاں بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے .صاحب اقتدار ہوں یا عام شہری دونوں کو ہوش کے ناخن لینے پڑیں گے .اپنے ہی گھر میں آگ لگا کر کوئی بھی سکون حاصل نہیں کر سکتا.اگ تو پھیلتی ہی جاتی ہے .اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہے.اس اگ کی تپش ہم پشاور میں بیٹھ کر بھی محسوس کر رہے ہیں.کے پی کے جنوبی علاقوں میں بھی ایسی ہی بد امنی ہے .ہر وقت کی بد امنی اور دہشت گردی کے واقعات نے پشاور کے باسیوں کو بھی متاثر کیا ہے.آج سے 25 ٫30 سال پہلے تک ہم یہاں شیر و شکر ہو کر رہتے تھے مجھے یاد ہے کہ قصہ خوانی سے محرم الحرام میں ذوالجناح کا جلوس گزرتا تھا تو اس کے راستے میں اہل سنت دودھ اور شربت کی سبیلیں لگاتے تھے.محرم کے دس دن پورے پشاور میں موسیقی بند کر دی جاتی تھی۔ سینما ہال بند کر دیے جاتے تھے کیونکہ دل کشادہ تھے ۔دوسروں کے لیے احترام کا جذبہ تھا۔نفرتوں کی دیواریں ایستادہ نہیں ہوئی تھیں۔ میرے مرحوم سسر ہر سال کرسمس کے موقع پر اپنے ایک مسیحی دوست کے گھر کیک لے کر جاتے اور کرسمس کی مبارک باد دیتے .لیکن نہ جانے کس کی نظر لگ گئی دوسرے مذاہب کو تو چھوڑیں اپنے ہم مذہبوں کے لیے بھی دل میں نفرت و قد ورتوں کا زہر پھیل گیا اور مسلسل پھیلتا جا رہا ہے.فرقہ بندی اور تعصب کا سانپ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کو ڈس رہا ہے.ابھی حال ہی میں کرسمس کا تہوار منایا گیا .ہم نے بھی اپنے ادارے میں چھوٹے پیمانے پر اس تہوار کو منانے کا اہتمام کیا.کچھ کرسچین دوستوں کے ساتھ ساتھ ایک صوبائی وزیر اور ایک مولانا صاحب نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور سب کرسچین دوستوں کو کرسمس کی مبارکباد دی .بین المذاہب آہنگی پر دل کو چھو لینے والی باتیں کیں.ہم نے اپنی فیملی کے ساتھ اپنے کرسچین دوستوں کے تہوار میں شرکت کر کے انہیں مبارکباد بھی دی.ہماری ایک تنظیم انر وہیل کی کچھ خواتین ممبران کرسمس کے موقع پر ایک مقامی گرجا گھر میں گئیں اور وہاں پر تحائف بھی تقسیم کیے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور خوشی میں شریک ہوئیں.ایک طرف تو ہم اپنے طور پر بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دے رہے تھے تو دوسری جانب ایسے بھی بہت سے احباب تھے جو مسلسل میسج کر کے ہمیں احساس دلا رہے تھے کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں.اور گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں.افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں زیادہ تر تعداد اچھے خاصے پڑھے لکھے اہل علم و دانش کی تھی ۔اب انہیں کون سمجھائے.مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ انہی احباب کے بہت سارے رشتہ دار اور اپنے بچے بیرون ملک مقیم ہیں.جہاں غیر مسلموں کی حکومت ہے .خود یورپ کے بیشتر ممالک امریکہ کینیڈا انگلینڈ میں دیکھا کہ مسلمان مساجد بنا رہے ہیں رمضان کو پورے اہتمام سے منایا جا رہا ہے .انہی غیر مسلموں کے وطن میں عید کا تہوار عید ملن پارٹیاں ہو رہی ہیں.جن میں ان کے غیر مسلم دوست بھی شریک ہوتے ہیں .جب ان سے یہ بات کی جائے تو لاجواب ہو کر مذہبی حوالے دینا شروع کر دیتے ہیں۔جس طرح سے ہم ان غیر مسلم ممالک میں اپنے تہوار اپنی مذہبی رسومات پوری آزادی سے ادا کرتے ہیں اسی طرح مملکت پاکستان میں بھی ہمارے ان غیر مسلم بھائیوں کو بھی یہی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مذہبی رسومات اپنے تہوار پوری آزادی اور خوشی کے ساتھ منائیں اور ہمیں بھی ان تہواروں میں ان کی خوشی میں شریک ہونا چاہیے ۔دسمبر کہ چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں ۔پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یہ سال پچھلے کئی سالوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی اداس کر گیا ہے۔ ہمارے وطن میں 10 کروڑ سے زیادہ افراد غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں۔ غربت اور معاشی بد حالی نے معاشرے کے تاروپود بکھیر دیے ہیں۔پورا معاشرہ اخلاقی طور پر روبہ زوال ہے۔صرف معاشی حالات کی وجہ سے ایک جوان شادی شدہ لڑکی کو اس کی سگی خالہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے مروا دیتی ہے۔ ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے وقت اس کے چہرے پر پشیمانی یا تاسف کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔حیرت تو اس بات پر ہے کے اپنا جسم اپنی مرضی والی ترقی پسند خواتین کی تنظیموں کو اس موقع پر سانپ سونگھ جاتا ہے وہ بینر لے کر سڑکوں پر نہیں آتیں۔ وہ اس معصوم بچی کے لیے احتجاج نہیں کرتیں۔ اس کے لیے انصاف کا مطالبہ نہیں کرتیں۔ آخر کیوں۔یہ سال اس لیے بھی یادگار رہے گا کہ ہماری تاریخ میں پہلی بار بجلی اتنی مہنگی ہو گئی کہ عام لوگوں کے بجٹ کا نصف سے زیادہ حصہ بجلی کے بل کی ادائیگی میں سرف ہو گیا ۔حیرت کی بات یہ کہ شدید سردی کے موسم میں جب پنکھے بند اے سی بند بجلی کی کھپت میں بہت کمی ہو جاتی ہے ان دنوں بھی لوڈ شیڈنگ حسب معمول جاری ہے ۔طویل گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ اور بڑے بڑے بلوں نے عوام کو چکرا کر رکھ دیا ہے.کوئی بھی سیاسی پارٹی مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کرنے کو تیار نہیں کیونکہ ان کے اپنے مفادات متاثر ہوتے ہیں۔حکمران طبقہ چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن ان کی عیاشیاں اور طرز زندگی بہتر سے بہتر ہوتی جا رہی ہیں ۔انصاف ناپید ہے ۔لوگ عدالتوں سے مایوس ہیں ۔سیاسی نظام ایک جھولے کی مانند ہے جس پر سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی باری کا انتظار کر کے جھولا جھولتی ہیں۔ مزے لیتی ہیں اس وقت تک جب تک کہ دوسری کوئی پارٹی ان کی ٹانگ نہ کھینچ لے۔یہ تماشہ اس سال بھی جاری رہا ۔سیاست ایک گالی بن کر رہ گئی ہے ۔مذہبی رہنما بھی اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں جو اپنے مفادات دیکھ کر بغیر کسی جھجک کے پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔مہنگائی بام عروج پر ہے۔زندگی کی عام سہولتیں عوام کی پہنچ سے دن بدر دور ہوتی جا رہی ہے۔چکن ٫ گوشت اور مچھلی کو تو چھوڑیں سبزیاں اور دالیں بھی دن بدن مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے.ہم سے معاشی طور پر کمزور بہت سے ممالک جیسے انڈیا٫ بنگلہ دیش ٫نیپال افغانستان غربت کو دھکیل کر خوشحالی کی جانب رواں دواں ہیں. عالمی سطح پر بھی یہ سال بڑا ہنگامہ خیز رہا ۔جنوبی کوریا جیسے ترقی یافتہ ملک میں مارشل لاء کا اعلان ہوا لیکن عوام کے شدید رد عمل کے نتیجے میں اسے چند گھنٹوں ہی کے بعد واپس لے لیا گیا .دہائیوں سے قائم بشار الاسد کی حکومت کی بساط لمحوں میں لپیٹ دی گئی .بنگلہ دیش سے حسینہ واجد کو عوام کے شدید احتجاج کے بعد دم دبا کر بھاگنا پڑا .خدا نہ کرے ہمارے ملک میں بھی ایسے حالات ہو جائیں کہ عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو جائے. پہلے افغانستان میں امریکہ اور روس اپنے مفادات کی خاطر لڑتے رہے جس کا تختہ مشق لاکھوں افغانیوں کو بننا پڑا ۔پاکستان بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔دہشت گردی اور بدامنی کی ایسی لہر آئی کہ ابھی تک اس سے چھٹکارا نہیں پا سکے ۔اور اب چین عالمی افق پر ایک سپر پاور بن کر ابھرا ہے پاکستان سے چین کے تعلقات میں دن بدن مضبوطی آتی جا رہی ہے جو امریکی مفادات کے خلاف ہے اور اب لگتا ہے کہ چین اور امریکہ کے مفادات کی جنگ پاکستانی سرزمین پر لڑی جائے گی سی پیک جیسے عظیم منصوبے کی تکمیل جہاں پاکستان میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور لے کر آئے گی وہیں چین کو گوادر سے خنجراب تک ایک محفوظ راہداری بھی مہیا ہوگی گوادر سے بین الاقوامی تجارت شروع ہوگی جو پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط کرے گی وہیں چین کے اثر و رسوخ میں بے حد اضافہ ہوگا جو شاید امریکہ کو قابل قبول نہ ہو ۔سی پیک پر عمل درآمد تبھی ممکن ہے جب پاکستان اور افغانستان میں مکمل امن قائم ہو جائے ۔بلوچستان اور کے پی میں جاری بدامنی کی یہ لہر اسی منظر نامے کا حصہ ہے۔مشرق وسطی میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل کیا جا رہا ہے۔فلسطین سے جاری ہونے والی اس جنگ کے شعلے اب لبنان شام مصر تک پھیلتے جا رہے ہیں ایران بھی اس کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔یہ سال فلسطینیوں کے لیے تاریخ کا سیاہ ترین باب بن کر نازل ہوا.46 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید جب کہ لاکھوں زخمی ۔اسلامی ممالک اپنے مفادات کو عزیز رکھتے ہوئے اسرائیل کی زبانی مذمت کرنے تک محدود ہیں .ترقی یافتہ ترین اقوام جو انسانی حقوق کی علمبردار سمجھی جاتی ہیں وہ بھی اسرائیل کے آگے خاموش .ہسپتالوں پر بمباری۔۔ ہزاروں زخمیوں کی اموات .مہاجر کیمپوں پر بمباری ان سب کا جواب اسرائیل سے کون طلب کرے گا ان ہزاروں فلسطینیوں کے خون کا حساب آخر کون دے گا .2024 میں انسانیت سسکتی رہی اور اور پوشیدہ بین الاقوامی قوتوں کا خون آشام رقص جاری رہا.ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے.خدارا ہوش کے ناخن لیں .کم سے کم اپنے وطن میں تو امن قائم کریں سیاسی طور پر سب کو ایک جیسا موقع فراہم کریں ۔مقبول سیاسی رہنماؤں کو قید کرنے سے عوام میں بے چینی پھیلتی ہے مہذب معاشروں کا یہ چلن نہیں ۔نئی نسل کو سبق دیں کہ ہر کسی کو اپنے سیاسی عقائد پر عمل کرنے کا پورا حق ہے اپنی پسند کی تنظیم سے وابستگی کا حق ہے لیکن اسے ذاتی اختلافات کی شکل نہ دیں اس طرح ہی ہم ایک جمہوری معاشرے کی تشکیل کر سکیں گے۔.دلوں سے مذہبی سیاسی اختلافات کو نکال دیں.فرقہ وارانہ تعصبات کا خاتمہ بہت ضروری ہے ورنہ ہم تفریق در تفریق ہو کر کہیں کے بھی نہیں رہیں گے۔معصوم بچوں اور لوگوں کا خون چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے اس آگ کو پھیلنے سے بچا لو ۔آئیے ہم سب اپنے دلوں کو کشادہ کریں ۔مل کر دعا کریں کہ ہمارے ملک میں اور پوری دنیا میں امن قائم ہو انسانیت کا بول بالا ہو اور 2025 کا آغاز دنیا میں امن اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے۔آمین ۔اس سال ہمارے بہت سے اپنے پیارے چاہنے والے ہم سے ہمیشہ کے لیے روٹھ گئے۔ دسمبر 2025 تک نہ جانے اور کتنے ساتھی رشتہ دار پیارے لوگ راہ عدم پر روانہ ہو چکے ہوں گے ہو سکتا ہے اس فہرست میں ایک نام ہمارا بھی شامل ہو جائے !!
دسمبر کی آخری شام
پھر دسمبر کی آخری شام
آپہنچی اور یہ شام
سب دوستوں کے نام
وہ جو راہ اُلفت میں
ساتھ رہے
وہ جو زندگی کی کُلفتوں
میں ھم دم رھے
وہ جو راہِ وفا پہ مر مٹے
اُن شہیدوں کے نام
وہ جو گھروں سے مکتب
کو نکلے مگر کبھی نہ لوٹے
وہ جو راہِ وفا پہ
دغا دے گئے
جن کی یادوں میں
آنکھیں پتھرا گئیں
وہ جو سب دکھوں
کے ساتھی تھے
اور خوشیوں کے
ھم نوا رھے
اُن سب کے نام
اور ابھی چند لمحے
باقی ہیں اُن لمحوں
کے نام
آؤ مناؤ یہ آخری شام
کہ شاید اگلے دسمبر
یہ شام تو ھو
مگر ھم نہ ھوں
تو اللہ حافظ اے دسمبر