ایران کا امریکی کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ، مرکزی صوبے میں فضائی دفاعی نظام متحرک
ایرانی حکام کے مطابق امریکی جے اے ایس ایس ایم کروز میزائل کو مارکزی صوبے کی فضاؤں میں تباہ کر دیا گیا، جس سے دفاعی نظام کی فعالیت ظاہر ہوتی ہے

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مرکزی صوبے مارکزی کی فضاؤں میں ایک امریکی جے اے ایس ایس ایم کروز میزائل کو مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق میزائل کو بروقت شناخت کر کے نشانہ بنایا گیا اور اسے اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔
ایرانی دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ میزائل کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ فضائی نگرانی کے نظام نے فوری طور پر اس کی نشاندہی کی اور دفاعی یونٹس کو متحرک کر دیا گیا، جس کے بعد ایک کامیاب کارروائی کے ذریعے اسے تباہ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام اب بھی مکمل طور پر فعال اور موثر ہے۔
فوجی حکام کے مطابق امریکی جے اے ایس ایس ایم ایک جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل ہے جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ ریڈار سے بچتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکے۔ ایسے میزائلوں کو روکنا آسان نہیں سمجھا جاتا، تاہم ایرانی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا۔
ایرانی حکام نے اس واقعے کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کا اہم ثبوت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں تعینات فضائی دفاعی نظام مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدہ حالات کے باوجود ایران نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط رکھا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق فضائی دفاعی نظام کسی بھی ملک کی قومی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جدید جنگوں میں میزائل، ڈرون اور جنگی طیارے اہم ہتھیار سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف موثر دفاعی نظام ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنے مقامی دفاعی نظام کو بہتر بنانے اور جدید بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے مختلف فضائی دفاعی یونٹس ملک بھر میں نصب ریڈار سسٹمز اور میزائل شکن نظام کے ذریعے مسلسل فضائی حدود کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہ نظام کسی بھی مشکوک سرگرمی یا آنے والے میزائل کی فوری شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکزی صوبے میں امریکی کروز میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس واقعے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایران اپنی فضائی حدود کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے دفاعی نظام چوبیس گھنٹے متحرک رہیں گے اور اگر مستقبل میں بھی اسی نوعیت کے حملوں کی کوشش کی گئی تو انہیں بھی اسی طرح ناکام بنایا جائے گا۔
رپورٹ: عبدالامین



