قومی

بریکنگ نیوز — پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ؛ اعلان جلد متوقع

حکومت پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے تک اضافہ کئے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا ہو گیا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے مقامی ریفائنری اور درآمدی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔ اسی کے ساتھ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل پر کوئی سبسڈی نہ دی جائے اور قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق فوری بڑھائی جائیں تاکہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف پورا ہو سکے۔ حکومت نے قیمتوں کا جائزہ ہر ہفتے لینے پر غور شروع کیا ہے تاکہ عالمی منڈی کے حالات کے مطابق فوری ردوبدل کیا جا سکے، جس کے نتیجے میں بڑے اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی لاگت کی زیادتی نے بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنایا ہے کیونکہ درآمدی ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

عوام پر اس کے اثرات بھی واضح ہوں گے۔ پٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے میں اضافہ متوقع ہے، جس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑے گا۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اشیائے خوردونوش، اسٹوریج، نقل و حمل اور دیگر شعبوں کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ صنعتی اور زرعی شعبے میں بھی لاگت بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ ڈیزل بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں حکومت کے اقدام کی سخت مخالفت ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عوام پہلے ہی مہنگائی اور اقتصادی دباؤ کا شکار ہیں، اور 55 روپے فی لیٹر تک اضافے سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ صارفین بھی پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں بنا رہے ہیں تاکہ نئی قیمتوں کے اعلان سے پہلے ایندھن حاصل کر سکیں۔

حکومت نے ابھی تک سرکاری طور پر 55 روپے کے اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلان کل یا آنے والے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔ حکومتی ترجمانوں نے کہا ہے کہ عالمی منڈی کے حالات اور IMF کی شرائط کے پیش نظر فیصلے کیے جا رہے ہیں

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button