تہران کا آسمان آلودہ فضا کی لپیٹ میں، شہری صحت کے مسائل سے دوچار
اسموگ اور زہریلے دھوئیں نے ایرانی دارالحکومت کو ڈھانپ لیا، ماہرین نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے دیا

ایران کے دارالحکومت تہران کا آسمان آج کل شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں فضا اس قدر آلودہ ہو چکی ہے کہ آسمان پر دھند اور اسموگ کی موٹی تہہ واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس آلودگی نے نہ صرف شہر کے قدرتی حسن کو متاثر کیا ہے بلکہ لاکھوں شہریوں کی صحت کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران تہران کے شہریوں نے آسمان پر چھائی ہوئی دھند اور دھوئیں کے بادلوں کو نمایاں طور پر محسوس کیا ہے۔ صبح کے وقت فضا میں اسموگ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے دور تک دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلند عمارتیں اور پہاڑی سلسلے جو عام حالات میں واضح نظر آتے ہیں، اب آلودگی کے باعث دھندلے دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق فضائی آلودگی میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں ہے۔ تہران میں لاکھوں گاڑیاں روزانہ سڑکوں پر چلتی ہیں جن میں سے بڑی تعداد پرانی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ہے۔ یہ گاڑیاں زیادہ مقدار میں کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسیں خارج کرتی ہیں جو فضا کو آلودہ کر دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ شہر کے اردگرد موجود صنعتی کارخانے بھی فضائی آلودگی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کارخانوں سے نکلنے والا دھواں اور مختلف کیمیائی گیسیں فضا میں شامل ہو کر اسموگ پیدا کرتی ہیں۔ بعض اوقات بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس میں کم معیار کا ایندھن استعمال کیا جاتا ہے جس سے بھی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
تہران کی جغرافیائی ساخت بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ شہر پہاڑوں کے درمیان واقع ہے جس کی وجہ سے جب ہوا کی رفتار کم ہوتی ہے تو آلودہ دھواں شہر کے اوپر ہی جمع رہتا ہے۔ نتیجتاً آلودگی کئی دنوں تک برقرار رہتی ہے اور شہریوں کو صاف ہوا میسر نہیں آتی۔
ڈاکٹروں کے مطابق فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسموگ میں موجود باریک ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہو کر مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ دمہ، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن جیسے مسائل ایسے ماحول میں عام ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور پہلے سے بیمار افراد اس آلودگی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید آلودگی کے دوران شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو ماسک کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ مضر ذرات سے کچھ حد تک بچاؤ ممکن ہو سکے۔ اسی طرح بچوں اور بزرگوں کو آلودہ ماحول میں زیادہ دیر تک رہنے سے بچانا بھی ضروری ہے۔
حکام نے بھی شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے اور بعض اوقات اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کرنے جیسے اقدامات پر بھی غور کیا جاتا ہے تاکہ بچوں کو آلودگی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک میں کمی اور صنعتی اخراج کو محدود کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر بھی بات کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آلودگی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینا، پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا اور پرانی گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنا ایسے اقدامات ہیں جو آلودگی میں کمی لا سکتے ہیں۔
اس وقت تہران کے شہری آلودہ فضا کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آسمان پر چھائی ہوئی اسموگ نہ صرف شہر کے حسن کو ماند کر رہی ہے بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ شہری امید کر رہے ہیں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے تاکہ شہر کو دوبارہ صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
رپورٹ: عبدالامین



