قومی

اسلام آباد حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، ذمہ دار بھارت ہے: محسن نقوی

حملے سے منسلک تقریباً تمام ملزمان گرفتار، داعش سے وابستہ افغان ماسٹر مائنڈ بھی حراست میں، معاملہ عالمی فورمز پر اٹھانے کا اعلان

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کی تمام منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی جبکہ اس دہشت گرد کارروائی کی مالی معاونت اور ہدایات بھارت کی جانب سے فراہم کی گئیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح طور پر الزام عائد کیا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس بھارتی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں اور انہی نیٹ ورکس نے جمعہ کے روز ہونے والے حملے کو عملی جامہ پہنایا جس میں 31 نمازی شہید ہوئے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ حملہ داعش سے وابستہ عناصر کے ذریعے ترتیب دیا گیا اور اس کی فنڈنگ براہِ راست ڈالرز میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہی ان گروہوں کو اہداف دیتا ہے اور ہر مرحلے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ دنیا آج خاموش ہے مگر ایک دن آئے گا جب سب تسلیم کریں گے کہ دہشت گردی کا اصل سرپرست بھارت ہے۔

محسن نقوی کے مطابق دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھرپور کارروائیاں شروع کیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے رات بھر آپریشن کے دوران حملے سے جڑے تقریباً تمام افراد کو گرفتار کر لیا۔ پشاور اور نوشہرہ میں چھاپوں کے دوران چار سہولت کار پکڑے گئے جبکہ داعش سے تعلق رکھنے والا افغان ماسٹر مائنڈ بھی حراست میں لے لیا گیا۔ اس آپریشن میں کے پی پولیس کا ایک افسر شہید ہوا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد نے مکمل تفصیلات فراہم کی ہیں کہ حملہ آور کو کیسے افغانستان میں تربیت دی گئی، کس راستے سے پاکستان لایا گیا اور کارروائی کے بعد کیا منصوبہ تھا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ٹی ٹی پی، داعش اور دیگر غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں مل کر کام کر رہی ہیں اور افغان سرزمین کو استعمال کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی افغانستان میں 21 دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خلاف دفاعی دیوار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر یہ دیوار کمزور ہوئی تو پورا خطہ متاثر ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مئی کے بعد دہشت گرد نیٹ ورکس کے بجٹ میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے گی اور نائب وزیراعظم سمیت سفارتی مشنز دنیا کو حقائق سے آگاہ کریں گے۔

سکیورٹی اداروں پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہر کامیاب حملے کے مقابلے میں 99 منصوبے ناکام بنائے جاتے ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دے کر اداروں کا ساتھ دیں کیونکہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ انہوں نے بھارتی میڈیا پر کالعدم بی ایل اے کی پراپیگنڈا ویڈیوز کی تشہیر کا بھی الزام لگایا۔

وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ سکیورٹی فورسز کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے جبکہ دہشت گردوں کے پاس افغانستان میں چھوڑا گیا جدید امریکی اسلحہ موجود ہے جس سے چیلنج بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے دارالحکومت کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 93 داخلی راستوں کو مضبوط بنایا جائے گا، سمارٹ سکیورٹی نظام بہتر ہوگا اور 6 ہزار نئے پولیس اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان محفوظ ہے، جنگ جاری رہے گی اور تحقیقات میں پیش رفت کے ساتھ قوم کو مزید آگاہ کیا جاتا رہے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button