پاکستان–قازقستان بزنس فورم: دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز
اسلام آباد میں منعقدہ بزنس فورم میں قازقستان کے صدر اور وزیرِ اعظم پاکستان کی شرکت، متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد میں پاکستان–قازقستان بزنس فورم کا شاندار انعقاد کیا گیا جس میں قازقستان کے صدر اور وزیرِ اعظم پاکستان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ فورم کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، معاشی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ تقریب میں حکومتی شخصیات، کاروباری برادری کے نمائندوں، سرمایہ کاروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔
فورم کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن کا تعلق تجارت کے فروغ، توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ اور سیاحت کے شعبوں سے ہے۔ ان معاہدوں کو پاکستان اور قازقستان کے اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی تقویت ملے گی۔
وزیرِ اعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ قازقستان وسطی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے اور پاکستان اس کے ساتھ مضبوط اقتصادی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم موجودہ صلاحیت سے کہیں کم ہے جسے بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ قازقستان کی منڈیوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔
قازقستان کے صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور بڑی صارف مارکیٹ کا خصوصی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ تک رسائی کا اہم دروازہ ہے جبکہ قازقستان وسطی ایشیا میں تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک مل کر علاقائی روابط، تجارتی راہداریوں اور توانائی منصوبوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فورم میں بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا گیا جہاں پاکستانی اور قازق کمپنیوں کے درمیان براہِ راست روابط قائم ہوئے۔ توانائی، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، تعمیرات اور زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کاروباری ماحول میں بہتری اور حکومتی پالیسیوں کو سراہا۔
ماہرین کے مطابق یہ فورم دونوں ممالک کے تعلقات کو روایتی سفارتی دائرے سے نکال کر عملی معاشی شراکت داری کی طرف لے جانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ سی پیک اور علاقائی رابطہ کاری کے تناظر میں قازقستان کے ساتھ تعاون پاکستان کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں بھی ایسے فورمز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا اور طے شدہ معاہدوں پر تیز رفتاری سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ دونوں ممالک کی قیادت نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ پیش رفت پاکستان اور قازقستان کے عوام کے لیے خوشحالی اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔



