اے آئی بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں میں خطرناک اضافہ، ایک سال میں 20 لاکھ سے 2 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئے
رپورٹ میں انکشاف، خودکار اے آئی سسٹمز نے ہیکنگ کو تیز، سستا اور زیادہ مؤثر بنا دیا، عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ

حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی بوٹس کے استعمال سے سائبر حملوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں صرف ایک سال کے عرصے میں حملوں کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 50 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ مستقبل میں سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی بوٹس، جو پہلے مختلف مثبت مقاصد جیسے خودکار کسٹمر سروس، ڈیٹا اینالیسس اور ڈیجیٹل اسسٹنس کے لیے استعمال ہوتے تھے، اب تیزی سے سائبر جرائم میں بھی استعمال ہونے لگے ہیں۔ ان بوٹس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خودکار طریقے سے کم وقت میں ہزاروں بلکہ لاکھوں حملے کر سکتے ہیں، جس سے روایتی سیکیورٹی نظام انہیں روکنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اے آئی بوٹس کی مدد سے ہیکرز اب زیادہ پیچیدہ اور ذہین حملے کر سکتے ہیں، جیسے فِشنگ ای میلز کو زیادہ حقیقت کے قریب بنانا، پاس ورڈز کو تیزی سے توڑنا، اور سسٹمز کی کمزوریوں کو خودکار طریقے سے تلاش کرنا۔ اس کے علاوہ یہ بوٹس مسلسل سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ وقت کے ساتھ مزید مؤثر ہوتے جاتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان نے روایتی سیکیورٹی ماڈلز کو چیلنج کر دیا ہے۔ پہلے جہاں ہیکرز کو کسی حملے کے لیے وقت اور مہارت درکار ہوتی تھی، اب اے آئی کی مدد سے یہ عمل تیز اور آسان ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے گروپس یا انفرادی ہیکرز بھی بڑے پیمانے پر حملے کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے اس منفی استعمال نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ حکومتیں، نجی ادارے اور بین الاقوامی تنظیمیں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر سیکیورٹی کے نظام کو بھی اے آئی سے لیس کرنا ہوگا تاکہ وہ ان جدید خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں بینکاری، ای کامرس، صحت، اور حکومتی ادارے شامل ہیں۔ ان شعبوں میں حساس معلومات موجود ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ ہیکرز کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بنتے ہیں۔ خاص طور پر آن لائن مالیاتی لین دین میں اضافہ ہونے کے باعث سائبر حملوں کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں سائبر حملے مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں سیکیورٹی کو اولین ترجیح دینا ہوگی، اور صارفین کو بھی اپنی آن لائن حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔
مزید برآں، رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی تعاون اس مسئلے کے حل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ چونکہ سائبر حملے سرحدوں کی قید سے آزاد ہوتے ہیں، اس لیے ایک ملک کی کوششیں کافی نہیں ہوتیں۔ عالمی سطح پر معلومات کے تبادلے، مشترکہ پالیسی سازی، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہی اس خطرے کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
تعلیم اور آگاہی کو بھی اس مسئلے کے حل میں اہم قرار دیا گیا ہے۔ عام صارفین کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ مشکوک ای میلز، لنکس، اور ویب سائٹس سے کیسے بچیں۔ اسی طرح اداروں کو اپنے ملازمین کو سائبر سیکیورٹی کی تربیت دینا ہوگی تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ حملے کو پہچان سکیں اور بروقت کارروائی کر سکیں۔
حکومتوں کے لیے بھی یہ ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔ پالیسی سازوں کو ایسے قوانین اور ضوابط بنانے ہوں گے جو سائبر جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہوگا تاکہ وہ سائبر جرائم پیشہ عناصر کا سراغ لگا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق مستقبل میں اے آئی کا استعمال مزید بڑھے گا، جس کے ساتھ ساتھ اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو سامنے آئیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں توازن قائم رکھا جائے، تاکہ اس کے فوائد سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے جبکہ اس کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
آخر میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر سیکیورٹی کو ایک مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھنا ہوگا، جہاں حکومت، نجی شعبہ، اور عام صارفین سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف اسی صورت میں ہم اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں اور ایک محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔



