صدرِ مملکت سے ہائینان کے پارٹی سیکرٹری اور صوبائی گورنر کی ملاقات
دوطرفہ تعلقات، معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال، سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر زور

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے چین کے صوبہ ہائینان کے اعلیٰ حکام، پارٹی سیکرٹری اور صوبائی گورنر نے ملاقات کی، جس میں پاک-چین تعلقات، معاشی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ شراکت داری کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات نہایت اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔
چینی وفد نے اس موقع پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہائینان صوبہ، جو چین کی معیشت میں ایک اہم مقام رکھتا ہے، پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائینان کو ایک آزاد تجارتی زون کے طور پر ترقی دی جا رہا ہے، جہاں سے پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کا ایک نمایاں منصوبہ ہے، جس کے تحت پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے منصوبے اور صنعتی زونز قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، زراعت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ملاقات میں سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی۔ ہائینان، جو اپنی خوبصورت ساحلی پٹی اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے مشہور ہے، پاکستان کے سیاحتی شعبے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا۔ چینی وفد نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے مشترکہ منصوبوں کی تجویز دی، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
زراعت کے شعبے میں بھی تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوئی، جہاں جدید زرعی ٹیکنالوجی، بیجوں کی بہتری، اور پیداوار میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا گیا۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور چین کے ساتھ اس شعبے میں تعاون سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔
مزید برآں، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان طلبہ کے تبادلوں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اور ثقافتی پروگرامز کے ذریعے عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
چینی وفد نے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ صدرِ مملکت نے چینی وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دورے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
یہ ملاقات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات نہ صرف مضبوط ہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرے ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں اس نوعیت کے روابط دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی ترقی، علاقائی استحکام اور باہمی خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔


