
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں سندھی ثقافت، یکجہتی اور عالمی روابط کا ایک خوبصورت منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب سندھی ایسوسی ایشن آف یورپ کی جانب سے انٹرنیشنل ڈائیسپورا کانفرنس کے مندوبین کے اعزاز میں ایک پُروقار عشائیہ دیا گیا۔ اس تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سندھی رہنماؤں، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کی، جس نے اسے ایک عالمی اجتماع کی شکل دے دی۔
تقریب کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر سندھی برادری کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، ثقافتی ورثے کا تحفظ یقینی بنانا اور نوجوان نسل کی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ اس موقع پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اپنی شناخت، زبان اور ثقافت کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
اس بین الاقوامی اجتماع میں سانا (SANA) کے جنرل سیکریٹری اسد شیخ، نائب صدر اصغر پٹھان، پاکستان ایکسلینس کلب کے چیئرمین حمید بھٹو اور سینیٹر ڈاکٹر قیوم سومرو نے خصوصی شرکت کی۔ ان کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا سے سانا کے مرکزی رہنماؤں رئوف شیخ، آکاش کے رامانی، ڈاکٹر ذوالفقار خواجہ، علی حسن بھٹو، اسحاق تنیو اور شاہدہ شیخ بھی تقریب کا حصہ بنے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے نوجوانوں میں ہنر مندی (اسکل ڈویلپمنٹ) کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھی نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ہنر سے آراستہ کیا جائے تو وہ نہ صرف عالمی سطح پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اپنی ثقافت اور شناخت کو بھی مضبوطی سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔
میزبانی کے فرائض روہت کمار (صدر، سندھی ایسوسی ایشن آف یورپ)، مجیب جم بھٹو، ڈاکٹر علی رضا میرجت اور ڈاکٹر قادر سرکی نے انجام دیے، جنہوں نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور یورپ میں مقیم سندھی برادری کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یورپ میں سندھی کمیونٹی کے اتحاد اور ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
عشائیے میں دنیا بھر سے 100 سے زائد مندوبین نے شرکت کی، جن میں جاپان سے ایوب مہر، عمان سے ڈاکٹر دلیپ، جبکہ امریکہ (ہیوسٹن) سے محمود ڈاہری، ڈاکٹر گل بلیدی، ڈاکٹر گل سومرو اور منور رند شامل تھے۔ اس عالمی شرکت نے تقریب کو ایک منفرد رنگ دیا اور مختلف ثقافتوں کے امتزاج کو نمایاں کیا۔
تقریب کے دوران عالمی سندھی تنظیموں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم نکات پر اتفاق کیا گیا۔ ان میں بیرون ملک مقیم سندھیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر نیٹ ورک کا قیام، سندھی زبان اور ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا، اور مختلف ممالک میں کام کرنے والی تنظیموں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا شامل ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر کامیابی کے لیے اتحاد اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف ممالک میں موجود سندھی تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں اور مشترکہ اہداف کے لیے کام کریں تو وہ نہ صرف اپنی کمیونٹی کی ترقی کو یقینی بنا سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنی شناخت کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے سندھی ایسوسی ایشن آف یورپ کی شاندار میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عشائیہ عالمی سندھی برادری کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تقریبات نہ صرف روابط کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح لائحہ عمل بھی فراہم کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بین الاقوامی اجتماعات نہ صرف ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ مختلف ممالک میں مقیم کمیونٹیز کے درمیان فکری اور سماجی روابط کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ اس تقریب نے یہ ثابت کیا کہ سندھی برادری دنیا بھر میں اپنی شناخت، ثقافت اور اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گی۔



