قومی

سندھ و پنجاب انفارمیشن کمیشن کا آر ٹی آئی قوانین کے مؤثر نفاذ کیلئے اشتراک پر اتفاق

لاہور میں اہم اجلاس، شفافیت، عوامی آگاہی اور معلومات تک رسائی بہتر بنانے کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر غور

سندھ انفارمیشن کمیشن اور پنجاب انفارمیشن کمیشن کے درمیان معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہو گیا۔ اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس لاہور میں پنجاب انفارمیشن کمیشن کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں دونوں صوبوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں سندھ انفارمیشن کمیشن کی جانب سے کمشنرز محمد سلیم خان اور نور محمد دایو شریک ہوئے، جبکہ پنجاب انفارمیشن کمیشن کی نمائندگی چیئرمین محمد مالک بھُلّا اور رکن بشریٰ صاقب نے کی۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے معلومات تک رسائی کے قوانین کے بہتر نفاذ اور شفاف طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ معلومات تک رسائی کے قوانین کا مؤثر نفاذ شہریوں کو بروقت اور آسان معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی شفافیت اور احتساب کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ آر ٹی آئی قوانین جمہوری نظام کا ایک اہم ستون ہیں، جو عوام کو حکومتی امور میں شمولیت کا موقع فراہم کرتے ہیں اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

دونوں کمیشنز نے عوامی آگاہی بڑھانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ شہریوں کو ان کے معلومات تک رسائی کے حق سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے آگاہی مہمات، سیمینارز اور تربیتی پروگرامز کے انعقاد پر بھی غور کیا گیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس حق سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اجلاس میں سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرکاری افسران کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے معلومات کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معلومات کی بروقت اور پیشگی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ شہریوں کو بار بار درخواستیں دینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

شرکاء نے اپنے اپنے تجربات کا تبادلہ کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ شفاف طرز حکمرانی عوام کے اعتماد کی بحالی اور خدمات کی بہتر فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری ادارے کھلے اور جوابدہ ہوں گے تو نہ صرف کرپشن میں کمی آئے گی بلکہ عوامی مسائل کے حل میں بھی بہتری آئے گی۔

اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ آر ٹی آئی قوانین میں مزید بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں موجودہ قوانین کا جائزہ لینے، ضروری ترامیم کرنے اور پالیسی سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا، تاکہ معلومات تک رسائی کے عمل کو مزید آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔

دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مشترکہ طور پر پیشگی معلومات کی فراہمی کو فروغ دیں گے، سرکاری افسران کی تربیت کے اقدامات کی حمایت کریں گے اور شہریوں کو معلومات تک رسائی کے حق کے استعمال میں سہولت فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اشتراک جمہوری اقدار کے استحکام اور عوامی اداروں کی جوابدہی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سندھ اور پنجاب انفارمیشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ اس کے تحت آگاہی مہمات، تکنیکی معاونت، قانون سازی میں بہتری اور پالیسی اقدامات کے ذریعے سرکاری اداروں میں شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا بین الصوبائی تعاون نہ صرف آر ٹی آئی قوانین کے نفاذ کو بہتر بنائے گا بلکہ ملک بھر میں شفافیت اور احتساب کے نظام کو بھی مزید مضبوط کرے گا، جس سے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مستحکم ہوگا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button