ایبٹ آباد خواجہ سرا تشدد کیس، نامزد شہری نے الزامات مسترد کر دیے
تھانہ سکندر آباد کی حدود میں پیش آنے والے واقعے پر ملزم کی پریس کانفرنس، غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ

ایبٹ آباد (نمائندہ خصوصی) تھانہ سکندر آباد کی حدود سپلائی میں پیش آنے والے خواجہ سرا تشدد کیس میں نامزد شہری تجمل نے اپنے اوپر عائد الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واقعے کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
ایبٹ آباد پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران تجمل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں درج کیا گیا واقعہ اس وقت کا ہے جب وہ اپنے گھر میں موجود تھا، لہٰذا اس پر لگائے گئے تمام الزامات حقائق کے برعکس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک ایسے معاملے میں ملوث کیا جا رہا ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے بعض افراد سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور معلومات شیئر کر کے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے ذہنی اذیت کا باعث ہے بلکہ ان کی سماجی حیثیت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
تجمل نے مزید دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں طلب کرنے کے بعد گرفتار کیا اور مبینہ طور پر دو روز تک تھانے میں غیر قانونی طور پر رکھا گیا، جو ان کے بقول بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔
پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین ملکپورہ سکندر ایاز بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات انتہائی ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
انہوں نے ڈی آئی جی ہزارہ اور ڈی پی او ایبٹ آباد سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل غیر جانبدار انکوائری کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تجمل بے گناہ ثابت ہوتے ہیں تو انہیں فوری طور پر انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے خلاف درج مقدمہ واپس لیا جائے۔
دوسری جانب پولیس حکام کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم خبر فائل ہونے تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آ سکا۔ پولیس کی جانب سے موقف آنے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
علاقے میں اس کیس کو لے کر مختلف آراء پائی جا رہی ہیں، جبکہ سماجی حلقے بھی اس واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، تاکہ نہ صرف متاثرہ فریق کو انصاف ملے بلکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی بھی قائم رہے۔
یہ کیس مقامی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں تحقیقات کے نتائج اس معاملے کی اصل صورتحال واضح کریں گے۔



