کراچی میں امتحانی مراکز پر چھاپے، نقل اور بدانتظامی بے نقاب
وزیرِ جامعات محمد اسماعیل راہو کا سخت ایکشن، نیو ویژن گرامر اسکول کا سینٹر منسوخ، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان

سندھ کے وزیرِ جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو نے شہر کے مختلف امتحانی مراکز، خصوصاً صدر اور لیاری کے علاقوں کا اچانک دورہ کیا، جہاں امتحانی صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔
دورے کے دوران لیاری میں واقع نیو ویژن گرامر اسکول کے امتحانی مرکز سے امیدواروں کے پاس بڑی تعداد میں موبائل فونز اور نقل کا مواد برآمد ہوا۔ اس سنگین خلاف ورزی پر وزیرِ جامعات نے فوری نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین میٹرک بورڈ کو مذکورہ امتحانی مرکز کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
محمد اسماعیل راہو نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ 16 مختلف اسکولوں کی 400 سے زائد طالبات کو ایک ہی امتحانی مرکز میں منتقل کیا گیا، جو قواعد و ضوابط کے خلاف ہے۔ مزید برآں، دیگر اسکولوں سے طالبات کو لیاری کی بہار کالونی کے ایک سینٹر میں منتقل کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جس پر وزیر نے سخت برہمی ظاہر کی۔
انہوں نے بتایا کہ بعض امتحانی مراکز میں موبائل فونز کا کھلے عام استعمال دیکھا گیا، جو امتحانی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ اس صورتحال پر چیئرمین بورڈ کو فوری اور سخت اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں تاکہ نقل کے رجحان کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
دورے کے دوران وزیرِ تعلیم نے خود بھی طلبہ کی کاپیاں چیک کیں، جہاں متعدد طلبہ کے پرچے حرف بہ حرف ایک جیسے پائے گئے، جو منظم نقل کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پر انہوں نے واضح کیا کہ ایسے امتحانی مراکز کے خلاف فوری کارروائی کی جا رہی ہے اور کسی کو بھی طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ نقل میں ملوث افراد، چاہے وہ امتحانی عملہ ہو یا دیگر عناصر، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کسی صورت نقل اور بدعنوانی کو برداشت نہیں کرے گی اور تعلیمی نظام کو شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
اس موقع پر انہوں نے طلبہ کو بھی تلقین کی کہ وہ ایمانداری کے ساتھ امتحانات دیں اور نقل جیسے غیر قانونی عمل سے اجتناب کریں، کیونکہ یہ نہ صرف ان کے ذاتی مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام کو کمزور کرتا ہے۔
دوسری جانب کراچی کے متعدد امتحانی مراکز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کی شکایات بھی سامنے آئیں، جس پر وزیر نے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت دی تاکہ امتحانات کے دوران طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے اچانک دورے اور سخت اقدامات امتحانی نظام میں شفافیت قائم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہیں، اور اگر اس تسلسل کو برقرار رکھا جائے تو نقل جیسے ناسور پر قابو پایا جا سکتا ہے۔



