ایران جنگ کے دوران چین خاموشی سے سفارتی اثر و رسوخ بڑھانے میں کامیاب
پسِ پردہ سفارتکاری، معاشی طاقت اور توانائی حکمت عملی کے ذریعے چین نے عالمی سیاست میں اپنی اہمیت مزید مستحکم کر لی تفصیل:

ایران جنگ کے دوران عالمی سیاست میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جہاں چین نے کھل کر فوجی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ماہرین کے مطابق چین نے اس بحران کو نہ صرف ایک چیلنج بلکہ ایک موقع کے طور پر استعمال کیا، جس کے ذریعے اس نے خود کو ایک ذمہ دار اور بااثر عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا۔
رپورٹس کے مطابق چین اس جنگ میں کسی بھی فریق کا براہِ راست حصہ بننے کے بجائے پسِ پردہ کردار ادا کر رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ چینی وزیر خارجہ نے متعدد ممالک کے رہنماؤں سے درجنوں ٹیلیفونک رابطے کیے اور ایک جامع امن منصوبہ بھی پیش کیا جس کا مقصد جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔
چین کی اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ خود کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اگرچہ وہ ایران کا اہم اقتصادی شراکت دار ہے، لیکن اس نے کھل کر کسی ایک فریق کی حمایت کرنے سے گریز کیا۔ اس سے نہ صرف اس کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی بلکہ اسے مختلف ممالک کے درمیان اعتماد حاصل کرنے میں بھی مدد ملی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی یہ پالیسی اسے مستقبل میں امن مذاکرات اور خطے کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
معاشی سطح پر بھی چین نے اس بحران سے فائدہ اٹھایا۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے چین نے بڑی مقدار میں تیل ذخیرہ کر لیا تھا، جس کے باعث عالمی توانائی بحران کے دوران اسے نسبتاً کم نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اندازوں کے مطابق چین کے پاس تقریباً 1.4 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود تھے، جو اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مستحکم بناتے ہیں۔
چین کی توانائی حکمت عملی نہ صرف اس کی معیشت کو محفوظ بناتی ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔ ایران جیسے ممالک کے ساتھ اس کے قریبی اقتصادی تعلقات نے اسے ایک ایسا اثر و رسوخ دیا ہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف توانائی کے معاملات بلکہ سیاسی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ چین نے اس بحران کے دوران اپنی سفارتی سرگرمیوں کو تیز کیا۔ صدر شی جن پنگ اور دیگر اعلیٰ حکام نے عالمی رہنماؤں سے رابطے بڑھائے اور امن کی اپیل کی۔ چین نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ عالمی نظام کو “جنگل کے قانون” کی طرف نہیں جانا چاہیے بلکہ مسائل کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے ایک محتاط حکمت عملی اپنائی، جس میں وہ نہ تو مکمل طور پر غیر فعال رہا اور نہ ہی کھل کر سامنے آیا۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی چین کو خطرات سے بچاتے ہوئے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اسی دوران امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس جنگ میں مصروف رہیں، جس سے ان کی سفارتی اور فوجی توجہ تقسیم ہو گئی۔ اس صورتحال نے چین کو ایک ایسا خلا فراہم کیا جس میں وہ اپنی سفارتی موجودگی کو بڑھا سکا۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اس وقت عالمی سیاست میں ایک متبادل طاقت کے طور پر خود کو پیش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید بڑھ رہی ہے۔
مزید برآں، چین نے ایران کو مذاکرات کی طرف لانے میں بھی کردار ادا کیا۔ اطلاعات کے مطابق بیجنگ نے اپنے اقتصادی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تہران کو جنگ بندی مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں عارضی سفارتی پیش رفت ممکن ہوئی۔
چین کی یہ پالیسی اس کی وسیع تر عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف اپنے اقتصادی مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا بھی ہے۔ ماضی میں بھی چین نے مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوشش کی ہے، جس سے اس کی سفارتی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
تاہم، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کا کردار ابھی بھی محدود ہے اور وہ مکمل طور پر قیادت کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چین کسی بھی ایسے تنازع میں براہِ راست ملوث نہیں ہونا چاہتا جس سے اس کے اقتصادی مفادات یا دیگر عالمی تعلقات متاثر ہوں۔
چین کی اس پالیسی کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی شبیہ کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ وہ خود کو ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے جو جنگ کے بجائے امن، استحکام اور تعاون کو ترجیح دیتی ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے چین نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات مضبوط کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران جنگ نے عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئی صف بندی کو جنم دیا ہے، جس میں چین ایک ابھرتی ہوئی سفارتی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس نے بغیر کسی فوجی مداخلت کے اپنی موجودگی کو مضبوط کیا اور عالمی سطح پر اپنا کردار بڑھایا



