وزیراعظم کا ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تیزی لانے کا حکم
بنیادی ڈھانچے، توانائی اور سماجی شعبوں میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کی ہدایت، منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وزیراعظم پاکستان نے ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (PPP) ماڈل کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھا کر ان کی بروقت اور شفاف تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم کے مطابق ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیش نظر صرف سرکاری وسائل پر انحصار کافی نہیں رہا، اس لیے نجی سرمایہ کاری کو ترقیاتی عمل کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل نہ صرف منصوبوں کی رفتار بڑھاتا ہے بلکہ ان کی معیار اور پائیداری کو بھی بہتر بناتا ہے۔
اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے وزیراعظم کو جاری منصوبوں کی پیش رفت، درپیش رکاوٹوں اور مالیاتی مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ بعض منصوبے فنڈز کی کمی اور انتظامی تاخیر کے باعث سست روی کا شکار ہیں، جس پر وزیراعظم نے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے خاص طور پر بنیادی ڈھانچے، توانائی، صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو PPP ماڈل کے تحت ترجیح دینے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شعبوں میں نجی سرمایہ کاری سے نہ صرف عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ہر منصوبے کی پیش رفت پر باقاعدہ نظر رکھی جا سکے۔ وزیراعظم کے مطابق تاخیر اور کرپشن جیسے عوامل ترقیاتی عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، جنہیں ختم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لیے ایک مرکزی کوآرڈینیشن فریم ورک مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم رہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے پالیسی میں تسلسل اور قانونی تحفظ فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر PPP ماڈل کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ پاکستان کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق نجی شعبے کی شمولیت سے نہ صرف مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ منصوبوں کی تکمیل کی رفتار بھی بہتر ہو گی۔
دوسری جانب کاروباری برادری نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر پالیسی میں شفافیت اور مستقل مزاجی برقرار رکھی جائے تو نجی سرمایہ کار بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام اداروں کو مقررہ اہداف کے مطابق کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مجموعی طور پر حکومت کا یہ اقدام ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور معیشت میں بہتری لانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔



