پاکستان میں ای گیٹس اور اسمارٹ اسکینرز کے ذریعے ون ونڈو ایئرپورٹ کلیئرنس کی جانب پیش رفت
ایئرپورٹس پر امیگریشن نظام کی جدید کاری، مسافروں کے لیے تیز رفتار اور محفوظ سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ

پاکستان میں ایئرپورٹس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ون ونڈو ایئرپورٹ کلیئرنس سسٹم متعارف کرانے کی جانب اہم پیش رفت جاری ہے، جس کے تحت ای گیٹس اور اسمارٹ اسکینرز کے ذریعے امیگریشن اور سیکیورٹی کلیئرنس کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا جائے گا۔
اس منصوبے کا مقصد مسافروں کو کم وقت میں سہولت فراہم کرنا ہے جبکہ سیکیورٹی کے معیار کو بھی مزید بہتر بنانا ہے۔ نئے نظام کے تحت مسافروں کی شناخت بائیومیٹرک تصدیق، چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) اور پاسپورٹ کے الیکٹرانک ڈیٹا کے ذریعے چند سیکنڈز میں مکمل کی جائے گی، جس سے روایتی طویل قطاروں اور تاخیر میں واضح کمی آئے گی۔
حکام کے مطابق ای گیٹس کی تنصیب سے امیگریشن کاؤنٹرز پر دباؤ کم ہوگا، خصوصاً مصروف اوقات میں مسافروں کو زیادہ سہولت میسر آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسمارٹ اسکینرز کے ذریعے سامان کی جدید طریقے سے جانچ کی جائے گی، جس سے مشکوک اشیاء کی نشاندہی مزید مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے گی۔
یہ منصوبہ ملک میں ایوی ایشن کے شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی (ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن) کا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف مسافروں کے تجربے میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان کے ایئرپورٹس کو عالمی معیار کے مطابق بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ون ونڈو سسٹم کے تحت امیگریشن، کسٹمز اور سیکیورٹی سمیت مختلف اداروں کے عمل کو ایک مربوط نظام میں لایا جائے گا تاکہ مراحل کی تکرار ختم ہو اور کلیئرنس کا عمل تیز تر ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں جدید ایئرپورٹس اب خودکار نظاموں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کی طرف جا رہے ہیں۔ پاکستان کا یہ اقدام اسی عالمی رجحان کے مطابق ایک مثبت پیش رفت ہے، جو مستقبل میں ہوائی سفر کو مزید آسان اور محفوظ بنانے میں مدد دے گا۔
مسافروں نے بھی اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے وقت کی بچت ہوگی اور ایئرپورٹس پر رش میں کمی آئے گی۔ خصوصاً کاروباری سفر کرنے والے افراد کے لیے یہ نظام انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کا نفاذ مرحلہ وار ہوگا اور ابتدائی طور پر بڑے بین الاقوامی ایئرپورٹس پر اسے متعارف کرایا جائے گا، جس کے بعد اسے ملک بھر کے دیگر ایئرپورٹس تک وسعت دی جائے گی۔ اس دوران عملے کی تربیت، سیکیورٹی اقدامات اور عوامی آگاہی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
مجموعی طور پر یہ اقدام پاکستان کے ایوی ایشن نظام کو جدید بنانے، سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی سمت ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔



