عالمی

ٹرمپ کا پاکستان کی درخواست پر ایران پر حملے نہ کرنے اور جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، پاکستان کا ثالثی کردار نمایاں، عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آنے لگے

واشنگٹن / اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سفارتی حلقوں کے مطابق سابق امریکی صدر اور موجودہ سیاسی رہنما Donald Trump نے مبینہ طور پر پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کسی بھی نئے فوجی حملے سے گریز کرنے اور پہلے سے جاری کشیدگی میں عارضی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خطے میں ممکنہ بڑے تنازعے کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطے کرائے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کی کوشش کی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتائج نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں اسلام آباد نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد فریقین کے درمیان غیر رسمی رابطے ہوئے جن میں جنگ بندی کو عارضی طور پر برقرار رکھنے اور کسی بھی نئی کارروائی سے گریز پر اتفاق کیا گیا۔ اسی سلسلے میں ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ وہ پاکستان کی درخواست اور خطے میں امن کی کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر ایران پر کسی نئے حملے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

تاہم اس پیش رفت پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے ایک مثبت سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر واقعی جنگ بندی میں توسیع ہوئی ہے تو یہ خطے میں بڑے تنازعے کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار اس صورتحال میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب بعض سیاسی ماہرین نے اس اعلان کو محتاط انداز میں دیکھنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور کسی بھی وقت حالات دوبارہ کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقل امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں بلکہ جامع سفارتی مذاکرات کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد کے سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن و استحکام کا حامی رہا ہے اور اس نے ماضی میں بھی مختلف بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کا مؤقف یہی ہے کہ تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں۔

ادھر امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے تاحال اس مبینہ پیش رفت پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صورتحال کے حتمی خدوخال واضح نہیں ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر سرکاری سطح پر تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

عالمی میڈیا اس پیش رفت کو بڑی توجہ سے دیکھ رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی خطے میں کشیدگی میں کمی کے ہر اقدام کا خیرمقدم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں اور چھوٹے مگر مؤثر اقدامات بڑے تنازعات کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button