قومی

“کوئی پلان بی نہیں”: بلاول بھٹو زرداری کا یو ایس–ایران مذاکرات ناکام ہونے پر خدشات کا اظہار

بلاول بھٹو زرداری کا انتباہ، مذاکرات ناکام ہوئے تو عالمی سطح پر سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اگر کامیاب نہ ہوئے تو اس کے عالمی سطح پر سنگین انسانی اور معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس صورتحال میں “کوئی پلان بی موجود نہیں”، اس لیے تمام توجہ امن کے حصول یعنی “پلان اے” پر ہونی چاہیے۔

ایک بین الاقوامی میڈیا انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک بڑی جنگ کے خطرات ابھی مکمل طور پر ٹلے نہیں۔ ان کے مطابق حالیہ کشیدگی اور جنگ نے پہلے ہی ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور عالمی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، اس لیے مزید تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ سفارتکاری کو مضبوط کریں اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر رکھیں۔ بلاول کے مطابق اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو خطہ ایک بار پھر بڑے پیمانے کی جنگ کی طرف جا سکتا ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ “ہماری پوری توجہ پلان اے یعنی امن پر ہونی چاہیے، کیونکہ جنگ اس نوعیت اور اس پیمانے پر کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکیں اور ایک مستقل امن کے لیے راستہ نکالیں۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے، جسے ختم کیے بغیر کوئی پائیدار حل ممکن نہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق سنجیدگی سے لچک دکھائیں اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

بلاول بھٹو نے پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق یہ خود ایک کامیابی ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کے لیے آمادہ ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تنازع کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں بلکہ اس کے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارت میں رکاوٹیں اور مہنگائی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو دنیا کو ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور جنگ بندی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کوشش ہے کہ کسی طرح سفارتی عمل کو جاری رکھا جائے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔

آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے، کیونکہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں اور دنیا ایک نئے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button