عالمی

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے، خطے میں شدید کشیدگی؛ ایران کی جوابی کارروائیاں، متعدد ممالک میں دھماکے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا “بڑی جنگی کارروائیوں” کے آغاز کا اعلان، اسرائیل کی میزائل باری؛ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا دیا، کئی ممالک نے فضائی حدود بند کردیں

امریکہ کے صدر Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف “بڑی جنگی کارروائیوں” کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے بھی ایران پر میزائل حملے کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ دونوں اتحادی ممالک کی اس مشترکہ کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے اور خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج نے ایران میں مختلف عسکری تنصیبات اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ حملے ممکنہ خطرات کو روکنے اور اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں محدود نہیں بلکہ ایک وسیع عسکری مہم کا حصہ ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے بھی فوری جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اردن، سعودی عرب اور عراق میں موجود بعض امریکی اڈوں یا مفادات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ان حملوں کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں، تاہم مختلف ذرائع نے متعدد مقامات پر دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

ایران کے دارالحکومت Tehran میں بھی کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے اہم سرکاری اور عسکری عمارتوں کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، تاہم بعض اہداف کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

خطے کے دیگر ممالک میں بھی صورت حال غیر یقینی ہے۔ قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور اردن سمیت کئی ریاستوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔ بین الاقوامی پروازوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس کے باعث عالمی فضائی ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عراق اور سعودی عرب میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی اڈوں کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی کوئی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔ بحرین میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے پیش نظر وہاں بھی حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک کی جانب سے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تصادم طول پکڑ گیا تو یہ صرف ایران اور اسرائیل یا امریکا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز یا خلیجی راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

مجموعی طور پر خطے کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ نئی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند گھنٹے نہایت اہم ہوں گے کیونکہ اسی دوران یہ طے ہوگا کہ آیا یہ کشیدگی ایک محدود فوجی تصادم تک رہے گی یا باقاعدہ علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر لے گی۔ دنیا بھر کی نظریں اب مشرقِ وسطیٰ پر جمی ہوئی ہیں اور عالمی امن کو درپیش خطرات کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button