مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر؛ ایران کے جوابی حملے، امریکی اور اسرائیلی اہداف نشانے پر
امریکا اور اسرائیل کی کارروائی کے بعد ایران کی وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’بڑی جنگی مہم‘ کا اعلان

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جب ایران نے امریکا اور اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کے جواب میں خطے بھر میں جوابی حملوں کا آغاز کر دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کا ہدف امریکی فوجی اڈے اور اسرائیلی تنصیبات ہیں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مختلف ممالک میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر Donald Trump نے ایک بیان میں کہا کہ ایک “بڑی جنگی مہم” جاری ہے اور امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن میں ہنگامی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پینٹاگون نے خطے میں تعینات افواج کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ادھر اسرائیلی حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام متحرک کر دیا گیا ہے۔ Israel کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق کئی شہروں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی اہداف پر کیے گئے حملوں کا براہِ راست جواب ہیں۔ Iran کا مؤقف ہے کہ اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی جس کے بعد جوابی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید حملے کیے گئے تو ردعمل اس سے بھی شدید ہوگا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ United States نے اپنے اتحادی Israel کے ساتھ مل کر مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا تاکہ خطے میں ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے لیے کانگریس یا عالمی سطح پر کوئی واضح مینڈیٹ موجود نہیں تھا، جس سے قانونی اور سفارتی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا جبکہ عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا قائم ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
تاحال موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے خلیجی خطے میں واقع چند امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ اسرائیلی علاقوں کی جانب بھی میزائل داغے گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی نظام نے متعدد حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم کچھ مقامات پر نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جانی نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اپنی افواج اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم کمزوری نہیں دکھائیں گے۔” اس بیان کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔
اب تک کی صورتحال کا خلاصہ:
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی اہداف پر کارروائی۔
ایران کے جوابی حملے، امریکی اڈے اور اسرائیلی تنصیبات نشانے پر۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ’بڑی جنگی مہم‘ کا اعلان۔
خطے میں ہائی الرٹ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی۔
عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیل۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ تنازع وسیع تر جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ عالمی نظریں اب آنے والے چند گھنٹوں اور دنوں پر مرکوز ہیں۔
رپورٹ: عبدالمومن



