روس اور چین کی ایران کی صورتحال پر ہنگامی سلامتی کونسل اجلاس بلانے کی درخواست
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر عالمی تشویش، سفارتی حل پر زور

روس اور چین نے ایران میں حالیہ پیش رفت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے فوری سفارتی مداخلت ناگزیر ہے۔
ذرائع کے مطابق روس اور چین نے باضابطہ طور پر سلامتی کونسل کے صدر کو خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران سے متعلق حالیہ عسکری کارروائیوں اور جوابی اقدامات نے خطے میں عدم استحکام کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی یکطرفہ فوجی اقدام سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔
ایران نے بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا نوٹس لیا جائے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں، تاہم وہ تنازع کے پُرامن حل کے لیے سفارتی راستوں کو بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کی مزید فوجی کارروائی خطے کو ایک وسیع تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوں گے۔
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے، جس میں مستقل اور غیر مستقل ارکان موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مبصرین کے مطابق اجلاس میں فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے آغاز سے متعلق قرارداد پیش کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقل ارکان کے اختلافات کسی مضبوط اور متفقہ قرارداد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور چین کی جانب سے اجلاس بلانے کی درخواست اس بات کا اشارہ ہے کہ بڑی طاقتیں اس بحران کو علاقائی حدود سے نکل کر عالمی تصادم میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتیں۔ دونوں ممالک طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا حل فوجی طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات اور علاقائی مکالمے میں مضمر ہے۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک نے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ خلیجی ریاستوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ پڑیں گے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام ایک دوسرے سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق کئی ممالک بیک چینل مذاکرات کے ذریعے فریقین کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اب سلامتی کونسل کے اجلاس پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ ادارہ اس نازک مرحلے پر کوئی مؤثر اور متفقہ لائحہ عمل پیش کر پاتا ہے یا نہیں۔ آنے والے دن اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے اور یہ واضح کریں گے کہ عالمی طاقتیں تنازعات کے حل کے لیے کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔
رپورٹ: عبدالمومن



