چیف جسٹس نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی
سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کا اعتراض، بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنما آج اہم پریس کانفرنس کریں گے

اسلام آباد میں آج ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست سننے کی استدعا کی۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ عمران خان کی اپیلیں پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، اس لیے کسی بھی شکایت یا طبی بنیاد پر ریلیف کے لیے متعلقہ فورم سے ہی رجوع کیا جائے۔
ملاقات کے دوران بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں اور انہیں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالتِ عظمیٰ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست کو فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کرے۔ تاہم چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب معاملہ پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے زیر التوا ہے تو سپریم کورٹ براہ راست مداخلت نہیں کر سکتی۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بھی عمران خان کو علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر اعتراض عائد کر دیا ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست قابلِ سماعت نہیں کیونکہ متعلقہ فورم پہلے سے موجود ہے اور قانونی تقاضوں کے مطابق وہیں رجوع کرنا چاہیے۔ اس پیش رفت کے بعد معاملہ ایک بار پھر قانونی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے درمیان دائرہ اختیار کی تقسیم ایک بنیادی اصول ہے۔ اگر کوئی مقدمہ کسی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہو تو سپریم کورٹ عموماً اسی وقت مداخلت کرتی ہے جب کوئی غیر معمولی آئینی سوال یا فوری نوعیت کی قانونی پیچیدگی سامنے آئے۔ موجودہ صورتحال میں چیف جسٹس کی ہدایت اسی اصول کی عکاسی کرتی ہے کہ فریقین پہلے متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔
سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور انہیں جدید طبی سہولیات تک فوری رسائی دی جانی چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم ہونے کے ناطے انہیں مناسب علاج کی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقے عدالتی طریقہ کار پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام معاملات قانون کے مطابق اور مقررہ فورمز کے ذریعے ہی طے ہونے چاہئیں۔
اسی تناظر میں سپریم کورٹ سے کچھ ہی دیر بعد ایک اہم پریس کانفرنس متوقع ہے جس میں بیرسٹر گوہر خان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے دیگر سرکردہ رہنما، جن میں سلمان اکرم راجہ, لطیف کھوسہ, نعیم حیدر پنجوتھہ اور علی بخاری شامل ہوں گے، میڈیا سے گفتگو کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات، چیف جسٹس سے ملاقات کی تفصیلات اور آئندہ کے قانونی لائحہ عمل پر روشنی ڈالی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی اہمیت بھی اختیار کر چکا ہے۔ عمران خان کے خلاف مختلف مقدمات اور اپیلیں پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، جس کے باعث ہر نئی درخواست اسی عدالتی دائرے میں جانچ پڑتال سے گزر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہائی کورٹ سے مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو فریقین آئینی طریقہ کار کے تحت دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر آج کی پیش رفت نے ایک بار پھر عدالتی نظام کے طریقہ کار اور دائرہ اختیار کے اصولوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت اور رجسٹرار آفس کے اعتراض نے واضح پیغام دیا ہے کہ قانونی معاملات طے شدہ فورمز کے ذریعے ہی آگے بڑھیں گے۔ اب نظریں متوقع پریس کانفرنس پر مرکوز ہیں جہاں پی ٹی آئی قیادت اپنے آئندہ اقدامات کا اعلان کرے گی اور ممکنہ طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کرنے یا موجودہ اپیلوں میں ترمیم کا عندیہ دے گی۔
رپورٹ: عبدالمومن



