قومی

شفافیت اور اچھی حکمرانی کے فروغ کے لیے نیب اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مابین تعاون پر تبادلۂ خیال

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے وفد کی چیئرمین نیب سے ملاقات، اینٹی کرپشن اصلاحات اور ڈیجیٹل اقدامات پر بریفنگ

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) کے چار رکنی وفد نے، جس کی قیادت چیئرمین فرانسوا ویلیریئن کر رہے تھے، قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد سے نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں شفافیت، احتساب، بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے وفد میں جسٹس (ر) ضیا پرویز، ایڈووکیٹ دانیال مظفر اور کاشف علی شامل تھے، جبکہ ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر اور نیب کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے اینٹی کرپشن اقدامات، ادارہ جاتی اصلاحات اور قومی احتسابی اداروں اور بین الاقوامی سول سوسائٹی کے مابین تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ بدعنوانی ایک عالمی چیلنج ہے جو سرحدوں سے ماورا ہو کر قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے اس کے تدارک کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔

چیئرمین نیب نے وفد کو نیب میں متعارف کرائی گئی جامع ساختی اصلاحات سے آگاہ کیا، جن میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، مصنوعی ذہانت کی مدد سے تحقیقات، بلاک چین اینالیسس اور ڈیجیٹل فارنزکس شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں 2005 کے دوران ریکارڈ 6.213 ٹریلین روپے کی ریکوریز ہوئیں، جبکہ گزشتہ تین برسوں میں مجموعی ریکوریز 11.3 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہیں۔

انہوں نے نیب کے شہری دوست اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جن میں علاقائی دفاتر میں فسیلیٹیشن سیلز، اکاؤنٹیبلٹی اینڈ بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز، گواہوں کے تحفظ اور معاونتی نظام اور کھلی کچہریوں کا انعقاد شامل ہے۔ سال کے دوران جعلی ہاؤسنگ اور سرمایہ کاری اسکیموں سے متاثرہ ایک لاکھ پندرہ ہزار پانچ سو ستاسی افراد کو ریلیف فراہم کیا گیا۔ مزید برآں، ریکور کی گئی رقوم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے منافع بخش اکاؤنٹس کھولنا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا تاکہ مستحقین کو ادائیگی کے وقت زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ پہنچایا جا سکے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ اگرچہ عالمی اشاریوں جیسے کرپشن پرسیپشن انڈیکس کی اہمیت ہے، تاہم نیب کی بنیادی توجہ نتائج پر مبنی فریم ورک پر ہے جس میں اثاثہ جات کی واپسی اور اہم مقدمات میں کامیاب پراسیکیوشن شامل ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نیب اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل مستند ڈیٹا کے تبادلے کے ذریعے زیادہ حقیقت پسندانہ اور شواہد پر مبنی جائزے تشکیل دے سکتے ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے چیئرمین فرانسوا ویلیریئن نے نیب کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اینٹی کرپشن فریم ورکس کے تحت پاکستان کے عزم کا عملی مظاہرہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں اداروں کے مابین مسلسل رابطہ شفافیت اور اچھی حکمرانی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔

آخر میں دونوں فریقین نے باہمی تعاون، استعداد سازی اور تعمیری شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا تاکہ پاکستان میں دیانت داری اور شفافیت کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button